Express News:
2026-06-03@00:01:43 GMT

ملتان سلطانز کا مسئلہ کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT

کراچی:

یہ 2017 کی بات ہے، پی ایس ایل کی ابتدائی کامیابی کو دیکھ کر اس میں ایک نئی ٹیم شامل کرنے کا فیصلہ ہوا، چھٹی ٹیم کیلیے پی سی بی کا شون گروپ کے ساتھ 5.2 ملین ڈالرز کا معاہدہ ہوا، یہ سابقہ مہنگی ترین ٹیم کراچی کنگز (2.6 ملین) سے دگنی رقم تھی، البتہ اپنے ابتدائی سیزن کے بعد ہی شون گروپ کو اندازہ ہو گیا کہ اس نے غلطی کر لی ہے، جب فیس کی ادائیگی نہیں ہوئی تو پی سی بی نے معاہدہ منسوخ کر دیا.

دسمبر 2018 میں عالمگیر ترین نے اپنے بھتیجے علی ترین کے ساتھ مل کر6.3 ملین ڈالر میں یہ ٹیم خرید لی،اس وقت ان کے ذہن میں یہی تھا کہ ہر حال میں فرنچائز لینی ہے اس لیے شاید یہ بات نہ سوچی کہ جب شون گروپ5.2 ملین فیس دیکھ کر سائیڈ پر ہوگیا تو یہ اس سے زیادہ رقم کیسے کور کریں گے. 

خیر یہ پارٹی بہت بڑی ہے، کچھ سیاسی معاملات بھی ذہن میں ہوں گے، اس لیے نقصانات بھی برداشت کیے جاتے رہے،2021 میں بعض وجوہات کی بنا پر عالمگیر ترین اکیلے ہی تمام شیئرز کے مالک بن گئے، چچا بھتیجے کے درمیان کیا بات ہوئی اس کا ہمیں کوئی مطلب نہیں،2023 میں عالمگیر ترین اس دنیا میں نہیں رہے اور علی ترین فرنچائز کے پھر سے مالک بن گئے،ان دنوں لیگ کا دسواں ایڈیشن جاری ہے.

اس سے قبل ہی علی ترین نے فنانشل ماڈل کو نشانہ بنانا شروع کر دیا، اچانک انھیں لیگ میں بے انتہا خامیاں دکھائی دینے لگیں اور وہ مالی نقصانات کا رونا رونے لگے، حیران کن طور پر پی سی بی اس دوران خاموش تماشائی بنا رہا کیونکہ علی ترین خاصی اثرورسوخ والی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں، انھوں نے یہ تک کہہ دیا کہ اگر ویلیویشن کے نتیجے میں فیس بڑھائی تو وہ ری بڈنگ میں جائیں گے. 

ایک اور انٹرویو میں انھوں نے ملتان کی فیس کراچی کے برابر کرنے کا مطالبہ بھی کیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ دسمبر میں جب پی سی بی نے  فرنچائزز سے پوچھا تھا کہ کیا وہ ملکیت اپنے پاس برقرار رکھنا چاہتی ہیں تو ملتان سمیت سب نے ہاں میں جواب دیا تھا. 

سلمان نصیر اور علی ترین کے تعلقات بھی مثالی نہیں ہیں، وہ اب لیگ کے سی ای او بن چکے لہذا صورتحال تھوڑی پیچیدہ سی ہے،دسویں ایڈیشن کے بعد کرکٹ بورڈ تمام ٹیموں کی ویلیویشن کرائے گا اور اس کے بعد کم ازکم 25 فیصد فیس میں اضافہ ممکن ہے. 

یوں ملتان کی فیس ایک ارب 8 کروڑ روپے سالانہ سے بڑھ کر ایک ارب 35 کروڑ تک ہو سکتی ہے، یہ سراسر گھاٹے کا سودا ہوگا اور علی کا شکوہ  ممکن طور پر غلط بھی نہیں ہے، البتہ ٹائمنگ اور انداز پر سوال اٹھ سکتے ہیں، ان کی باتوں سے لیگ کو نقصان ہوا، اس کی قدروقیمت کم ہوئی، علی ترین کو یہ باتیں گورننگ کونسل میٹنگ میں کہنی چاہیے تھیں لیکن سنا ہے وہاں وہ اپنا مائیک میوٹ ہی رکھتے ہیں.

ان کے پاس ایک آپشن یہ بھی تھا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھتے اور کہتے کہ چچا کا انتقال ہو چکا، ٹیم انھوں نے خریدی تھی لیکن اس فیس میں اسے میں نہیں سنبھال سکتا لہذا کچھ نظرثانی کریں، گوکہ معاہدے کی رو سے فیس میں کمی ممکن نہیں لیکن سلمان نصیر ماہر وکیل ہیں، وہ کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتے. 

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ علی ترین اتنے جارحانہ موڈ میں کیوں ہیں؟ حال ہی میں پی سی بی کے 2  ڈائریکٹرز ندیم خان اور سمیع برنی نے ملتان سلطانز کو جوائن کیا ہے، کیا انھوں نے کچھ ایسے مشورے دیے؟ کیا کسی نے یہ کہا کہ پی سی بی بیانات سے دباؤ میں آ جائے گا ایسا کرو، البتہ لوگ یہ کیوں بھول گئے کہ اس وقت چیئرمین محسن نقوی ہیں، وہ بھلا کسی کے دباؤ میں کیوں آئیں گے. 

ہو سکتا ہے ابھی مروت میں ڈھیل دی ہو لیکن ایسا زیادہ دیر نہیں چل سکتا، اس بار ملتان سلطانز بے دلی سے پی ایس ایل میں شریک ہوئے، اسکواڈ متوازن نہیں ہے، مسلسل شکستوں نے سابقہ کامیابیوں کو بھی گہنا دیا،اگر ٹیم کی برانڈ ویلیو تمام 10 ایڈیشنز کی بنیاد پر نہ بنتی تو ملتان پیچھے رہ جاتا، ویسے یہ بھی عجیب بات ہے جس نے اپنی ٹیم کو بڑا برانڈ بنایا وہ اتنے ہی نقصان میں رہے گا. 

ویلیویشن میں اس کی فیس زیادہ بڑھ سکتی ہے، جو سارے سال آرام سے بیٹھے رہیں اور لیگ کے وقت جاگیں ان کو فائدہ ہوگا، جتنا علی ترین کے بیانات نے پی ایس ایل کو نقصان پہنچایا اس سے زیادہ ٹیم کی ناقص کارکردگی سے لیگ متاثر ہوئی، آپ نے کبھی آئی پی ایل اونرز کو اس کی برائی کرتے نہیں دیکھا ہوگا. 

سوال یہ اٹھتا ہے کہ آپ نے اتنے مہنگے داموں ٹیم کیوں لی؟ جب مسلسل نقصان برداشت کرتے رہے تو چپ کیوں رہے؟ اب 10 سال پورے ہونے پر خیال آ رہا ہے، پی ایس ایل فرنچائز مالکان کو یہ سوچنا چاہیے کہ دولت تو ان کے پاس پہلے سے تھی، اس لیگ نے سیلیبریٹی اسٹیٹس دیا، آپ جنوبی پنجاب کے کتنے سیاستدانوں کو جانتے ہوں گے؟ کتنے بزنس مینز کے ناموں سے آپ واقف ہوں گے؟

البتہ پی ایس ایل اونرز کی مکمل ہسٹری دنیا جانتی ہے،وہ جہاں جاتے ہیں مداح ساتھ سیلفیز بنواتے ہیں،بیشتر نے یقینی طور پر لیگ سے پیسہ بھی کمایا ہوگا، جس وقت کسی کو علم نہ تھا کہ پی ایس ایل چلے گی یا نہیں تب خطرہ مول لے کر عاطف رانا، ثمین رانا، جاوید آفریدی، ندیم عمر، علی نقوی اور سلمان اقبال نے ٹیمیں خریدیں،اصل کریڈٹ تو انہی کو جاتا ہے.

کامیابی کے بعد آنے والوں کو تو زیادہ فیس دینی ہی تھی، اب پھر آئندہ سال 2 نئی ٹیموں کو شامل کیا جا رہا ہے، علی ترین کے بیانات کے بعد کیا کوئی 6.3 ملین ڈالر میں بھی ٹیم کو خریدے گا؟ وہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ملتان سلطانز جب اتنے نقصان میں ہے تو ہم کیسے ریکور کریں گے.

ایک طریقہ ہے پی سی بی ری بڈنگ میں ملتان کی ٹیم بھاری قیمت میں فروخت کر دے پھر اگلی 2 ٹیموں کے بھی ریٹس بڑھ جائیں گے، اس لیگ کو بڑا اونرز کو ہی بنانا تھا لیکن بدقسمتی سے چند ایک کے سوا دیگر فعال کردار ادا نہ کر سکے، اب نئے معاہدے ہونا ہیں اس صورتحال کا نقصان ہی ہوگا.

جب تک لیگ بڑی نہیں ہوتی زیادہ آمدنی ہونا ممکن نہیں ہے، اسے بڑا بنانے کیلیے ضروری ہے کہ رونا دھونا چھوڑ کر سب ٹیبل پر بیٹھیں اور نئی راہیں تلاش کریں، اگر ایسا نہیں کر سکتے تو ٹیم کو چھوڑ دیں،یقین مانیے کئی لوگ مالک بننے کیلیے تیار بیٹھے ہیں، فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے جو ہے وہ کریں بس لیگ کو برباد نہ کریں۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ملتان سلطانز علی ترین کے پی ایس ایل انھوں نے پی سی بی ٹیم کی تھا کہ کے بعد

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی