بھارت کی آبی جارحیت، دریائے چناب میں پانی کی آمد روک دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
بھارت کی جانب سے آبی جارحیت جاری ہے اور مودی سرکار نے دریائے چناب میں پانی کی آمد روک دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی اقدام کے باعث دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل کمی آرہی ہے، ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح کم ہو کر 4300 کیوسک رہ گئی ہے، 2 روز پہلے پانی کی سطح 87 ہزار کیوسک تھی۔
رپورٹ کے مطابق اس مقام پر معمول کے مطابق 25 سے 30 ہزار کیوسک پانی بہتا ہے۔
بھارت کی جانب سے دریائے چناب پر موجود ڈیمز سے پانی بند کرنے کی ویڈیوز بھی وائرل کی گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے بھارت مقبوضہ کشمیر کے کشن گنگا ڈیم میں بھی پانی روکنے جارہا ہے جس کے بعد دریائے جہلم میں بھی پانی کی آمد میں کمی کا خدشہ ہے۔
اس کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پرختم کرنے کے اعلان کے بعد دریائے راوی میں بھی پانی آنے کے امکانات مزید کم ہوگئے ہیں۔
بھارت نے 2001 میں دریائے راوی پر تین ڈیم تعمیر کیے جس کے بعد پاکستان کی طرف پانی کا بہاؤ تقریباً 75 فیصد کم ہو گیا، اس کے بعد سے راوی صرف مون سون کے دنوں میں ہی کسی حد تک بہتا دکھائی دیتا ہے، باقی سال خاص طور پر دسمبر سے مارچ کے دوران اس کا بہاؤ تقریباً ختم ہو جاتا ہے
ہلگام واقعے کے بعد بھارت نے الزام تراشی اور اشتعال انگیزی کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور سفارتی عملے کو بھارت چھوڑنے کی ہدایت کی تھی، مودی سرکار نے پاکستان کے حوالے سے کئی جارحانہ فیصلے کیے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دریائے چناب بھارت کی پانی کی کے بعد
پڑھیں:
دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
رانا فرحان سعید:ساہیوال کے علاقے قطب شہانہ کے مقام پر دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث قریبی علاقوں میں زرعی اراضی زیرِ آب آنا شروع ہو گئی ہے۔
مقامی زمینداروں کے مطابق گزشتہ سال ٹوٹنے والے بند کی تاحال مرمت نہ ہونے سے سیلابی پانی موضع اورنگ آباد میں داخل ہو گیا ہے۔
سیلابی پانی کے باعث سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے، جبکہ 100 سے زائد ایکڑ پر کھڑی کماد، تل، مکئی اور دھان کی فصلیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ پانی داخل ہونے سے جانوروں کا چارہ بھی بہہ گیا، جس کے باعث کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی اب موضع اورنگ آباد اور موسیٰ پور کی نواحی آبادیوں کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے مزید علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
زمینداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے باعث گزشتہ سال متاثر ہونے والے بند کی بروقت مرمت نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں انہیں مسلسل دوسرے سال بھی کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
متاثرہ کاشتکاروں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری حفاظتی اقدامات، بند کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت اور متاثرین کے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ