مختلف شخصیات سے ملاقات کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ متنازعہ نصاب تعلیم سے ملی یکجہتی اور مذہبی رواداری شدید متاثر ہو رہی ہے۔ یہ نصاب تعلیم ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت اور نصاب تعلیم کمیٹی کے کنوینیئر علامہ مقصود علی ڈومکی نے کوئٹہ میں صوبائی نصاب تعلیم کانفرنس کے سلسلے میں علماء کرام اور ماہرین تعلیم سے ملاقات کی اور انہیں صوبائی نصاب تعلیم کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ انہوں نے بلوچستان کے جید عالم دین جامعہ امام صادق علیہ السلام کے پرنسپل علامہ محمد جمعہ اسدی، وائس پرنسپل علامہ بہادر حسین موحدی، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ اکبر حسین زاہدی، مجلس علمائے مکتب اہل بیت بلوچستان کے صوبائی صدر علامہ ڈاکٹر محمد موسیٰ حسینی، صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ ذوالفقار علی سعیدی، مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی نائب صدر علامہ شیخ ولایت حسین جعفری، جنرل سیکرٹری علامہ سہیل اکبر شیرازی، معروف ماہر تعلیم پروفیسر محمد علی ہزارہ، پروفیسر سید ابوتراب جعفری، بلوچستان شیعہ کانفرنس کے رہنماء انجینئر حاجی جواد رفیعی، مجلس وحدت مسلمین یوتھ ونگ کے مرکزی رہنماء مولانا مبشر مہدی اور حاجی غلام حسین اخلاقی سے ملاقات کی اور انہیں 9 مئی کو کوئٹہ میں منعقد ہونے والی صوبائی نصاب تعلیم کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ یکساں قومی نصاب متنازعہ ہے، کیوں کہ اس میں مکتب تشیع کے عقائد اور اہل بیت (ع) کی تعلیمات کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے اور یہ نصاب اسی شکل میں نافذ کیا گیا ہے۔ جس سے ملی یکجہتی اور مذہبی رواداری شدید متاثر ہو رہی ہے۔ یہ نصاب تعلیم ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ہم 1975 کے نصاب دینیات کو موزوں قرار دیتے ہیں کیوں کہ اس نصاب میں مختلف اسلامی مکاتب فکر کی تعلیمات کو مناسب طور پر شامل کیا گیا تھا، لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یکساں قومی نصاب دینیات کو 1975 کی طرز پر ترتیب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان اور حقوق انسانی کا عالمی منشور ہر انسان کو اپنے مسلک اور مکتبہ فکر کی ہدایات کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کے حق کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یکساں نصاب ہمارے اس بنیادی حق پر حملہ ہے اور یہ ظلم کے مترادف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نصاب تعلیم کانفرنس علامہ مقصود سے ملاقات

پڑھیں:

وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس

رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز سمر کیمپ سے متعلق حکومتی احکامات پر سختی سے عمل کروائیں، تعلیمی اداروں کو سمر کیمپ کی اجازت پیر سے جمعرات تک کی ہے سمر کیمپ صبح 7 تا 10 بجے تک اور صرف ایک ماہ کیلئے ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر بعض سکولوں کے عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس لے لیا۔ رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز سمر کیمپ سے متعلق حکومتی احکامات پر سختی سے عمل کروائیں، تعلیمی اداروں کو سمر کیمپ کی اجازت پیر سے جمعرات تک کی ہے سمر کیمپ صبح 7 تا 10 بجے تک اور صرف ایک ماہ کیلئے ہوگا۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ والدین حکومتی ہدایات اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کے بارے میں شکایات وزیر تعلیم کے شکایت سیل کے نمبر 03166432182 اور 03160261408 پر درج کروا سکتے ہیں۔ رانا سکندر حیات کا کہنا تھا کہ سمر کیمپ بچوں کی شرکت اور والدین کی رضامندی سے مشروط ہے، سکو لز زبردستی بچوں کو سمر کیمپ میں نہیں بلا سکتے۔ 

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، گرمی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات کی پیشگوئی
  • وزیر تعلیم پنجاب کا سمر کیمپ کے حوالے سے حکومتی ہدایت پر عملدرآمد نہ کرنے کا نوٹس
  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • میر واعظ عمر فاروق کا متعدد شخصیات کی رحلت پر اظہار تعزیت
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی