سابق صیہونی وزیراعظم نے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کا مطالبہ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
غاصب صیہونی رژیم کے سابق وزیراعظم ایہود براک نے چینل 13 پر بات چیت کرتے ہوئے نیتن یاہو کی سربراہی میں موجود حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہودی آبادکاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سول نافرمانی کی تحریک چلا کر موجودہ حکومت کا خاتمہ کر دیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے سابق وزیراعظم ایہود براک نے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ وہ صیہونی چینل 13 پر ایک مباحثے میں بات چیت کر رہا تھا۔ ایہود براک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فلسطین کی اسلامی مزاحمت کی تحریک حماس آئندہ 50 برس تک اسرائیل کے خلاف برسرپیکار رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس سے پہلے ایہود براک نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اگر وہ فیصلہ سازی کا اختیار رکھتے تو حماس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو ترجیح دیتے چاہے ان مذاکرات کا نتیجہ مستقل جنگ بندی کی صورت میں ہی کیوں نہ نکلتا۔ یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں موجودہ اسرائیلی کابینہ نے غزہ میں فوجی کاروائی مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ صیہونی حکمرانوں نے دعوی کیا ہے کہ غزہ میں فوجی کاروائی میں مزید وسعت لانے کا مقصد حماس پر دباو ڈال کر اسے مذاکرات کے لیے اپنی پیش کردہ شرائط ماننے پر مجبور کرنا ہے۔ دوسری طرف بنجمن نیتن یاہو نے غزہ میں تازہ نفس فوج بھیج کر ریزرو فوجیوں کو بھی بلا لیا ہے۔
غزہ میں گذشتہ تقریباً 18 ماہ سے تباہ کن جنگ جاری رہنے کے باوجود غاصب صیہونی رژیم اب تک اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔ اسرائیل سے متعلق امور کے ماہر عصمت منصور اس بارے میں کہتے ہیں: "اسرائیل بدستور اس وہم کا شکار ہے کہ وہ غزہ میں فوج میں اضافہ کر کے اور فوجی کاروائی کی شدت بڑھا کر کوئی ایسی کامیابی حاصل کر سکتی ہے جو گذشتہ 18 ماہ میں حاصل نہیں کر پائی۔ یہ وہم صرف موجودہ غزہ جنگ سے مخصوص نہیں بلکہ اس کی ایک لمبی تاریخ ہے اور ہمیشہ سے صیہونی حکمران اس وہم کا شکار رہے ہیں۔" اسی طرح اسرائیل سے متعلق امور کے ایک اور تجزیہ کار یاسر مناع کا کہنا ہے: "غزہ جنگ کے آغاز سے ہی ایسے بہت سے شواہد دکھائی دے رہے تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ صیہونی حکمران شدید بحرانی حالات کا شکار ہیں۔ مثال کے طور پر اندر سے انہیں غزہ جنگ کی شدید مخالفت کا سامنا تھا اور اب بھی ہے۔ اسی طرح ایک اور مسئلہ انٹیلی جنس ادارے شاباک کے سربراہ کی برطرفی ہے۔ ان تمام شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ صیہونی رژیم اندر سے شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور صیہونی معاشرے میں گہری خلیج پائی جاتی ہے جبکہ اس کے سیاسی اور فوجی دھڑے بھی آپس میں ٹکراو کا شکار ہیں۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صیہونی رژیم کا شکار
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ