مریم نواز کے کسی ایک منصوبے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا،عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مریم نواز کے کسی ایک بھی منصوبے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا،خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبے بعد میں شروع ہوتے ہیں پہلے حصے بانٹنے کی بولیاں لگتی ہیں،نوازشریف کے ہیلتھ کارڈ پر اپنی مہر لگوانے والے ہمیں کس منہ سے کاپی پیسٹ کے طعنے دے رہے ہیں؟ ۔پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر سیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبے بعد میں شروع ہوتے ہیں پہلے حصے بانٹنے کی بولیاں لگتی ہیں،40 ارب روپے کا کوہستان کرپشن اسکینڈل اس کی بڑی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے ایک سال میں 80 منصوبے شروع کیے جن میں سے 50 سے زیادہ منصوبے مریم نواز کی حکومت مکمل کر چکی ہے ،نوازشریف کے ہیلتھ کارڈ پر اپنی مہر لگوانے والے ہمیں کس منہ سے کاپی پیسٹ کے طعنے دے رہے ہیں؟ پنجاب میں تمام کام میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ہوتے ہیں، مریم نواز کے کسی ایک بھی منصوبے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نئی کابینہ کے لیے ابھی سے بولیاں لگ رہی ہیں، جہاں اچھی وزارتوں کے لیے ایک ارب سے ستر کروڑ روپے تک کے ریٹ طے ہو رہے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جو لوگ پیسے دے کر وزیر بنیں گے وہ کرپشن نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟