وزیراعلیٰ مریم نواز کی انڈیا سے واپس آنے والے مریضوں کے پنجاب میں مفت علاج کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انڈیا سے واپس آنے والے مریضوں کے مفت علاج کی ہدایت کی ہے۔
حالیہ کشیدگی کے بعد انڈیا سے پاکستانی مریضوں کو علاج ادھورا چھوڑ کر واپس بھیج دیا گیا تھا تاہم وزیراعلیٰ نے ٹرانسپلانٹ اور دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کا پنجاب میں علاج یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے انڈیا سے ادھورے علاج کے ساتھ آنے والے مریضوں کے مفت علاج کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان مریضوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانیوں کو بھارت چھوڑنے کا حکم، اب تارک وطن سیما حیدر کا کیا ہوگا؟
وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایات جاری کردیں۔
واضح رہے کہ پہلگام حملے کے بعد دونوں ممالک میں ہونے والی کشیدگی کے بعد بھارت نے تمام پاکستانیوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ان درجنوں مریضوں کو بھی علاج ادھورا چھوڑ کر واپس آنا پڑا جو علاج معالجے کے سلسلے میں بھارت میں موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔