کراچی: لاپتہ شہری کی بازیابی درخواست پر سندھ حکومت، آئی جی اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کے علاقے شارعِ فیصل سے لاپتہ ہونے والے شہری جاوید کی بازیابی کی درخواست پر سندھ حکومت، آئی جی سندھ اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔
کراچی سے لاپتہ ہونے والے 2 افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔
عدالت نے شہری جاوید کی بازیابی سے متعلق حکومت سندھ، آئی جی سندھ اور دیگر سے جواب طلب کرتے ہوئے 22 مئی کو پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیے لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت لاپتہ افراد کیس: پولیس رولز میں 3 ماہ میں اصلاحات کا حکمدورانِ سماعت سچل سے لاپتہ ہونے والے شہری سردار آصف کے وکیل نے درخواست واپس لے لی۔
جسٹس ظفر احمد راجپوت نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا لاپتہ شہری واپس آگیا ہے؟
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، بازیابی کی درخواست کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتے۔
جس کے بعد عدالت نے درخواست واپس لینے پر شہری کی بازیابی کی درخواست نمٹادی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی بازیابی
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔