اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان علاقائی امن اور کثیرالملکی تعاون کے لیے پُرعزم ہے۔ریجنل ڈائیلاگ 2025 سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے حالیہ اشتعال انگیزیوں اور بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

اپنے خطاب میں نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور ہمیشہ کشیدگی کے خاتمے کی خواہش رکھتا ہے مگر اس کے امن کے جذبے کو ہرگز کمزوری نہ سمجھا جائے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتا ہے اور بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلام مخالف مہم اور کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے پر گہری تشویش ہے۔اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے اشاروں کو بین الاقوامی معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پانی کے ایک قطرے سے بھی دستبردار نہیں ہوگا۔

"کانگریس کی نظرِ بد سے بچنے کیلئے  جہازوں کو بھی حفاظتی اقدامات کی ضرورت پڑ گئی ہے" کھلونا رافیل دکھانے پر بی جے پی کی مضحکہ خیز جوابی تنقید

انہوں نے کہا کہ پانی روکنے کی دھمکی کو پاکستان جارحیت سمجھتا ہے اور یہ عمل جنگ کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کی بنیادی وجہ ہے اور اس کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں، پاکستان تصادم نہیں بلکہ بقائے باہمی چاہتا ہے اور ترقیاتی اہداف پر مبنی خارجہ پالیسی کو ترجیح دیتا ہے جو انصاف، عزت اور بین الاقوامی تعاون پر مبنی ہو۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کہ پاکستان اسحاق ڈار ہے اور

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار