اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی نے چینی باشندوں اور دیگر غیر ملکیوں کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کرنیکی ہدایت دی تاکہ وہ چوکس ہو کر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل آئی جی پی کمانڈنٹ بلوچستان کانسٹیبلری آغا محمد یوسف کی زیر صدارت ہیڈکوارٹر بدر لائن کوئٹہ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ڈپٹی کمانڈنٹ (ر) لیفٹیننٹ کمانڈر عطاء اللہ شاہ، ایس ایس پی ہیڈکوارٹرز، جبکہ دیگر زونل کمانڈرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی پی آغا محمد یوسف نے کہا کہ بلوچستان کانسٹیبلری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حاضری اور چیکنگ پوائنٹس کو سائبر سسٹم سے جوڑا جا رہا ہے تاکہ تمام امور ڈیش بورڈ کے ذریعے مانیٹر کیے جا سکیں۔ جوانوں کی حاضری، ڈیوٹی کی نگرانی اور احکامات کی ترسیل کو موثر بنانے پر زور دیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ڈیوٹی کے دوران جوانوں کے مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں گے اور ان کی رخصتوں کو بروقت یقینی بنایا جائے گا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ حاضری کے معاملے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، اور اگر کوئی جوان غیر حاضر پایا گیا تو متعلقہ زونل کمانڈر کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ ایڈیشنل آئی جی پی نے مزید کہا کہ کسی جوان سے آٹھ گھنٹوں سے زائد ڈیوٹی لینا ناقابل قبول ہوگا۔ انہوں نے چینی باشندوں اور دیگر غیر ملکیوں کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی تاکہ وہ چوکس ہو کر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایڈیشنل آئی جی انہوں نے

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟