پی ٹی آئی سے اتحاد ناممکن، ورکنگ ریلیشن شپ کیلئے تیار: فضل الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس ہوا۔ پی ٹی آئی کے ساتھ تعلقات سے متعلق امور پر بھی مشاورت کی گئی۔ خیبر پی کے حکومت کی کارکردگی، عوام کو درپیش مشکلات کا اجلاس میں جائزہ لیا گیا۔ مولانا نے پی ٹی آئی سے اتحاد کے امکان کو مسترد کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی سے ورکنگ ریلیشن شپ کیلئے تیار ہیں اتحاد کیلئے نہیں، تحریک انصاف سے باضابطہ اتحاد ممکن نہیں۔ جے یو آئی جنرل کونسل نے پی ٹی آئی سے اتحاد کی اجازت نہیں دی۔ مولانا فضل الرحمن نے پارلیمنٹ سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، بھارت پاکستان کیلئے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت بہت مضبوط ہے۔ بھارتی جارحیت پاکستان کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ قوم پاکستان کی دفاعی صلاحیت پر اعتماد کرتی ہے۔ اسمبلی میں ہم بانسری کس کے سامنے بجائیں، ہم ایک دوسرے پر تنقید کے دائرے سے نہیں نکل سکے۔ خیبر پی کے اور بلوچستان میں جنگ میں اضافہ ہو گا، ملک کی آخری صورتحال کیلئے سٹریٹجی بنائی گئی ہے۔ بھارت کو اپوزیشن اور سیاسی جماعتوں کی حمایت نہیں مل رہی، ہم پارلیمنٹ میں کارروائی کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے باہر آ گئے، وزیراعظم نہ وزیر خارجہ کوئی اہم منسٹر ایوان میں موجود نہیں تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی سے فضل الرحمن پاکستان کی
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ