سیاحوں کی ہلاکت:پولرائزیشن کے ہتھیار اور کشمیریوں کی بے بسی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
افتخار گیلانی
جنوبی کشمیر کے پہلگام کے بلند و بالا پہاڑوں میں واقع بائی سرن کے سرسبز میدان میں ہندوستانی بحریہ کے ایک افسر، ونے نرووال کی لاش پر بین کرتی ہوئی اس کی اہلیہ ہمانشی کی بے بسی کی تصویر کسی شقی القلب انسان کو کو بھی خون کے آنسو رونے پر مجبور کردیتی ہے ۔ آٹھ روز قبل ہی ان کی شادی ہوئی تھی اور وہ ہنی مون پر کشمیر وارد ہو گئے تھے ۔خونریزی کے ایسے واقعات سے کشمیر کی تاریخ پچھلے تیس سالوں سے رنگین ہے ۔ چند سال قبل سوپور کی ایک سڑک پر سیکورٹی فورسز کی گولیوں کے شکار ایک معمر آدمی کی لاش پر اس کے تین سالہ پوتے کی تصویربھی ایسی ہی بے بسی کی ایک مثال تھی، جس نے رونگٹے کھڑے کرد دیے تھے ۔
ہر سال موسم گرما میں پہلگام کا خوبصورت قصبہ جوش و خروش کا مرکز بن جاتا ہے ۔ایک طرف جولائی کے بعد لاکھوں ہندو یاتری امرناتھ غار میں برفانی شیو لنگ کے درشن کرنے آتے ہیں، دوسری طرف اسی علاقے کے آرو گاؤں میں ہر سال مئی سے ستمبر تک اسرائیلی سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔گزشتہ 22اپریل کو جب سیاحوں پر حملوں کی خبریں آنی شروع ہو گئی تھیں، تو پہلے مجھے لگا کہ شاید فلسطین جنگ کی وجہ سے کسی نے آرو میں کارروائی کی ہو، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ پہلگام قصبہ کے دوسری طرف بائی سرن سیاحتی پارک میں 27ہندوستانی اور ایک نیپالی شہری کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ایک کشمیری جو سیاحو ں کی خدمت پر مامور تھا، وہ بھی مہمانوں کو بچاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔ 1995میں ایک غیر معروف تنظیم الفاران کے ذریعے پانچ غیر ملکی سیاحوں کے اغوا کو چھوڑ کر عسکریت کے انتہائی بدترین دور میں بھی اس علاقے میں کھبی بھی سیاحوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے ۔
عالمی شہرت یافتہ ٹریکینگ گذرگاہوں کی وجہ سے ایڈونچر سیاحوں کے لیے یہ علاقہ پر کشش رہا ہے ۔ اونچے پہاڑوں سے گھری برفانی جھیلیں تارسرمارسر، فامبر وادی، کوثر ناگ، کشن سر، ویشن سر، نوند کول، گنگبل اور پھر واڈوان کے راستے پہلگام۔کشتواڑ گذرگاہ سیاحوں کے لیے جنت سے کم نہیں ہے ۔ شاید ہی دنیا میں اس قدر نظارے ایک ہی جگہ پر قدرت نے جمع کرکے رکھے ہوئے ہوں۔سال 2017 میں جب اننت ناگ کے کھنہ بل کے مقام پر امر ناتھ یاتریوں کو لے جانے والی بس پر گرنیڈ سے حملہ ہوا تھا، تو دہلی سے اس واقعہ کو کور کرنے کے لیے میں اس علاقے کے دورے پر آیا تھا۔ ویسے زمانہ کالج میں بھی سوپور سے کئی بار پہلگام اور اس کے پہاڑوں میں جانا ہوتاتھا۔ اس بار میں نے ان پہاڑو ں میں کئی روز گزارے تھے ۔ ہندو یاتریوں کے ساتھ چندن واڑی اور نن ون میں، اسرائیلی سیاحوں سے ساتھ آرو میں مل بیٹھنے کا موقع ملا۔ ان سے استفسار کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ اس علاقے کو خاصا محفوظ سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ؛ہمیں معلوم ہے کہ مقامی آبادی کے دلوں میں فلسطین بستا ہے ، مگر وہ اس معاملے میں ہمارے ساتھ کبھی بھی سیاسی بحث و مباحثوں میں الجھتے نہیں ہیں۔
گھروں کم گیسٹ ہاؤس میں عبرانی زبان میں بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ ان پڑھ ہونے اور اپنی زندگی میں اس تحصیل کے باہر نہ جانے کے باوجومقامی عبدالغنی شیخ،جیسے بزرگ عبرانی بول پاتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے کئی بارسفری ایڈوائزری جاری ہونے کے باوجود یہ نوجوان یہودی ہر سال یہاں آپہنچتے ہیں۔اس لیے اس علاقے میں سیکورٹی افراد کا واردات کے وقت موجود نہ ہونا ہضم نہیں ہو رہا ہے ۔
عینی شاہدین کے مطابق، سینٹرل فورس کی سریع الحرکت ٹیم کو بھی واردات کے بعد اس جگہ تک پہنچے میں ایک گھنٹہ کی دیری ہوگئی۔ دہلی میں کل جماعتی اجلاس میں وزیر داخلہ امت شاہ نے بتایا کہ بائی سرن کا ایکو پارک 20اپریل کو ہی کھولا گیا اور تین دن بعد یہ واقعہ رونما ہوگیا۔مقامی انتظامیہ نے سیکورٹی کو اس کی اطلاع نہیں دی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ پارک پورا سال کھلا رہتا ہے ۔جہاں 1500کے قریب سیاح ہوں اور وہاں ایک بھی پولیس کا فرد نہ ہو، کیسے ممکن ہے ۔عسکریوں کو چھوڑ کر اگر سیاح ہی آپس میں ہی دست و گریبان ہوں تو ان سے نپٹنے کے لیے بھی تو کسی ایک پولیس والے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ کم و بیش تیس برسوں پر محیط صحافتی کیریر کے بیشتر عرصے میں کشمیر اورہندوستانـپاکستان سفارت کاری وغیرہ پر رپورٹنگ کرتے ہوئے ا ن گنت پرتشدد واقعات کو کور کرنے اور مشاہدہ کا موقع ملا ہے ۔جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے ، تو اس کے بعد انٹلی جنس اور سیکورٹی ایجنسیوں کی ناکامیوں پر خوب لکھا جاتا ہے ۔ لیکن ایک عرصے کے بعد اب ادراک ہو رہا ہے کہ بہت سے معاملوں پر حکومت کو یا اس کے اداروں کو جانکاری ہوتی ہے ، مگر وہ ان واقعات کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کرتے ہیں، اگر ان کے تجزیہ کے مطابق اس کے بعد اٹھنے والے طوفان سے وہ زیادہ فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہوں۔ان میں سب سے پہلا واقعہ جولائی 1995ء میں جنوبی کشمیر کے پہلگام پہاڑوں سے چھ مغربی سیاحوں کا اغوا اور گمشدگی ہے ۔ہندوستانی حکومت کے اداروں، جموں و کشمیر پولیس کو معلوم تھا کہ ان سیاحوں کو واڈوان نامی ایک گاؤں میں رکھا گیا ہے ۔والی بال کھیلتے ہوئے ان کی تصویریں بھی طیاروں سے لی گئی تھیں۔کئی برسوں کے بعد اس موضوع پر دو برطانوی صحافیوں نے اپنی کتاب دی میڈوز میں ہندوستانی خفیہ ایجنسی ‘را’ کے دو سابق سربراہوں کے حوالے سے یہ ہوشربا انکشاف کیا کہ اغوا کے اس واقعہ کو جان بو جھ کر پاکستان کو عالمی برادری میں بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان مغربی سیاحوں کو بچایا جا سکتا تھا کیونکہ ‘را’ کے اہلکار اغوا کے پورے واقعہ کے دوران نہ صرف سیاحوں اور اغوا کاروں پر مسلسل نگاہ رکھے ہوئے تھے بلکہ ان کی تصویریں بھی لیتے رہے تھے ۔ جب ایک خاتون کوہ پیما ان سیاحوں کے اغوا کی اطلاع دینے راشٹریہ رائفلز کے کیمپ پہنچی تو بجائے داد رسی کے اس کی عصمت دری کی گئی۔اغواکاروں کی نقل و حرکت کی اطلاع دینے پر مامور جموں و کشمیر پولیس کے مخبر ‘ایجنٹ اے ‘ کو فوج نے عسکریت پسند کا لیبل لگا کر قتل کردیا تاکہ اطلاع کا سرچشمہ ہی بند ہوجائے ۔دونوں برطانوی صحافیوں نے شواہد کی بنیاد پر لکھا کہ ہندوستان نے سیاحوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا تاکہ پاکستان کے خلاف ایک بڑی سرد جنگ جیتی جا سکے۔
اسی طرح مصنف اینڈرین لیوی کے مطابق، دسمبر 1999ء میں انڈین ایئرلائنز کے طیارہ آئی سی 814 کے اغوا کے معاملے میں خفیہ ایجنسی کے ایک افسر نے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو اغوا کاروں کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے مسافروں سے بھرے طیارے کو اڑا دینے کا مشورہ دیا تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس سے کیا فائدہ ہوگا، تو تاویل یہ دی گئی کہ اس سے دنیا میں سفارتی محاذ پر پاکستان کو ٹھکانے لگایا جائے گا۔ مگر واجپائی نے سیاسی اور سفارتی فائدہ اٹھانے کی خاطر تین سو مسافروں کو قربان کرنے کی اس تجویز کو مسترد کردیا۔ستمبر 2002ء کو دو نامعلوم افراد نے گجرات کے احمد آباد شہر کے سوامی نارائن فرقہ کی عبادت گاہ اکشر دھام پر دھاوا بول کر 32 افراد کو ہلاک کیا۔ کمانڈوز نے دونوں حملہ آوروں کو 24 گھنٹے تک چلنے والے ایک اعصاب شکن آپریشن کے بعد ہلاک کیا۔تقریباً ایک سال تک اس کیس کی تفتیش اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ نے کی۔مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ ایک سال کے بعد اس کیس کو گجرات پولیس کی کرائم برانچ کے حوالے کیا گیا جس نے ایک ہفتہ کے اندر ہی مفتی منصوری اور دیگر پانچ افراد کو گرفتار کرکے اس کیس کو حل کرنے کا دعویٰ کیا۔نو سال بعد ان کو سپریم کورٹ نے الزامات سے بری قرار دیاسوال یہ ہے کہ آخر وہ حملہ آور کون تھے ، اور اس حملہ کی پلاننگ کس نے کی تھی۔ آخر بے قصور افراد کو گرفتار کرکے کس کی پردہ پوشی کی گئی۔یہ کیا اتفاق تھا کہ 2002میں پہلی بار بطور گجرات کے وزیر اعلیٰ کے نریندر مودی کو اسمبلی انتخابا ت کا سامنا کر نا پڑ رہا تھا۔ یہ تو تاریخ ہے کہ انہوں نے انتخابی مہم میں اس کا بھر پور استعمال کرکے پوری ریاست پر ایک جنون طاری کرکے اس کے لیے پاکستان کے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کو ذمہ دار ٹھہرایا۔آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کس نے اور کس کی ایما پر یہ حملہ کیا گیا تھا۔
پچھلی تین د ہائیوں کے دوران ہندوستان اور پاکستان تقریباً تین بار جنگ کے دہانے تک پہنچ گئے تھے ، جن میں 2001میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملہ، 2008میں ممبئی کے دو فائیو اسٹار ہوٹلوں پر دہشت گردانہ کاروائی اور 2019میں جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں نیم فوجی کانوائے پر خود کش حملہ شامل ہے ۔جو تار ان تینوں واقعات کو جوڑتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ خفیہ ایجنسیوں کو ان کے بارے میں پیشگی جانکاری تھی۔ آخر ان واقعات کو روکنے لیے انہوں نے کارروائی کیوں نہیں کی؟یہ ایک بڑا سوال ہے ، جو ہنوز جوا ب کا منتظر ہے ۔سال 2001 میں پارلیمنٹ حملہ سے قبل خود اس وقت کے وزیر داخلہ نے ہی خبردار کیا تھا کہ کوئی حملہ ہو سکتا ہے ۔اس واقعہ میں ملوث افضل گورو نے کورٹ کو بتایا کہ حملہ کرنے والے چار افراد کو وہ پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ دیوندر سنگھ کے حکم پر دہلی لے کر آیا تھا۔ ہونا تو چاہیے تھا کہ سنگھ کو سمن بھیجے جاتے اور اس کو تفتیش میں شامل کیا جاتا۔مگر عدالت نے گورو کابیان اس حد تک ریکارڈ کیا کہ وہ ان حملہ آوروں کو سوپور سے ٹرک میں دہلی لے آیا مگر بعد کا بیان حذف کرکے اس کو موت کی سزا سنائی۔دیوندر سنگھ کا نام نہ صرف 2001 میں ہندوستانی پارلیامنٹ پر ہوئے دہشت گردانہ حملہ میں آیا تھا بلکہ جولائی 2005 میں دہلی سے متصل گڑ گاؤں میں دہلی پولیس نے ایک ا نکاونٹر کے بعد چار افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے پاس ایک پستول اور ایک وائر لیس سیٹ برآمد ہوا۔گرفتار شدہ افراد نے دہلی پولیس کو ایک خط دکھایا، جو جموں و کشمیر سی آئی ڈی محکمہ میں ڈی ایس پی دیوندر سنگھ نے لکھا تھا، جس میں متعلقہ سیکورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ ان افراد کو ہتھیار اور وائر لیس کے ساتھ گزرنے کے لیے محفوظ راہداری دی جائے ۔دہلی پولیس نے سرینگر جاکر دیوندر سنگھ سے اس خط کی تصدیق مانگی اور ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ بھی مارا، جہاں سے انہوں نے اے کے رائفل اور ایمونیشن برآمد کیا۔ یہ سب دہلی کی ایک عدالت میں دائر چارج شیٹ میں درج ہے ۔بعد میں پلوامہ حملہ کے وقت دوبارہ دویوندر سنگھ کا نام سامنے آیا تھا۔ اسی طرح نومبر 2008ء کو ہندوستان کے اقتصادی مرکز ممبئی پر ہونے والا دہشت گرد حملہ کے حوالے سے امریکی سی آئی اے اور ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں جیسے انٹلی جنس بیورو، ریسرچ اینڈ انیلیسز ونگ(را)سمیت تقریباً سبھی خفیہ اداروں حتیٰ کہ ممبئی پولیس اور پانچ ستارہ ہوٹل تاج کی انتظامیہ کو بھی اس کی پیشگی اطلاع تھی۔اس حملے سے پہلے ایک سال کے دوران مختلف اوقات میں چھبیس اطلاعات ان اداروں کوموصول ہوئیں جن میں ان حملوں کی پیش گوئی کے علاوہ حملہ آوروں کے راستوں کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔خفیہ معلومات اس حد تک واضح تھیں کہ اگست2008 ء میں جب ممبئی پولیس کے ایک افسر وشواس ناگرے پا ٹل نے شہر کے فیشن ایبل علاقے کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کا چارج سنبھالا تو انہوں نے فوراً تاج ہوٹل کی انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ وہ معقول حفاظتی انتظامات کا بندوبست کریں۔پاٹل نے تاج ہوٹل کی سکیورٹی کے ساتھ گھنٹوں کی ریہرسل کی،کئی دروازے بند کروائے اور اس کے ٹاور کے پاس سکیورٹی پکٹ قائم کی۔ ان انتظامات کے بعد پاٹل چھٹی پر چلے گئے ۔اس دوران تاج ہوٹل کی انتظامیہ نے حفاظتی بندشیں اورسکیورٹی پکٹ ہٹوادی۔
پلوامہ حملوں کی دوسری برسی کے موقع پر معروف جریدہ فرنٹ لائن نے انکشاف کیا کہ2جنوری 2019سے 13فروری 2019تک یعنی حملہ سے ایک د ن قبل تک حکام کو 11 ایسی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جن میں واضح طور پر اس حملہ کی پیشن گوئی کی گئی تھی۔عام انتخابات سے 8ہفتے قبل اس حملے اور اس کے بعد پاکستان کے بالا کوٹ علاقے پر فضائی حملوں نے ایسی جنونی کیفیت پیدا کی کہ جو بھی اس حملہ کے متعلق حقائق جاننا چاہتا تھا، اس کو خاموش کردیاگیا۔ فرنٹ لائن کے نمائندے آنندوبھکتو نے اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ خفیہ اطلاعات اتنی واضح تھیں کہ ان پر ایکشن نہ لینا مجرمانہ زمرے میں ہی آسکتا ہے ۔
پولیس سربراہ دلباغ سنگھ اور انسپکٹرجنرل آپریشنز کی میز پر 13فروری کو جو رپورٹ پہنچی اس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ قومی شاہرا ہ پر آئی ای ڈی بلاسٹ کی تیاریا ں ہو رہی ہیں۔ ایک دوسرے خفیہ ان پٹ میں ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ تحصیل کے نزدیک قومی شاہراہ پر لتھی پورہ کراسنگ کو ہائی رسک علاقہ بتایا گیا۔ یہ وہی کراسنگ ہے ، جہاں اگلے روز یعنی 14فروری کو دوپہر سوا تین بجے ایک خود کش بمبار نے نیم فوجی دستوں کی ایک کانوائے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 40اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے ۔تقریبا ًڈھائی ہزار فوجی دستوں پر مشتمل 78گاڑیوں کی کانوائے جموں سے سرینگر آرہی تھی۔ اس اطلاع میں پولیس کو ہدایت دی گئی تھی کہ قومی شاہراہ کے اس حصے میں سکیورٹی کا خاطر خواہ انتظام کیا جائے ۔ پولیس نے بعد میں ایک نوجوان مدثر احمد خان کو اس حملہ کا ماسٹر مائنڈ قرار دیکر 100گھنٹوں کے بعد ہلاک کرکے اپنی پیٹھ تھپتھپائی۔بتایا جاتا ہے کہ وہ کئی ماہ سے خفیہ ایجنسیوں کے راڈار پر تھا اور اس کی نقل و حرکت نہایت باریکی کے ساتھ مانیٹر کی جا رہی تھی۔
فی الحال ہندوستانی حکومت نے پاکستان کے خلاف کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے ، جن میں سب سے بڑا قدم سندھ طاس معاہدے کی معطلی ہے ۔ یہ ایک ایسا معاہدہ تھا جس نے سفارت کاری کی ایک نادر تاریخ رقم کی تھی جو بصورت دیگر ہنگامہ خیزی اور بداعتمادی سے تعبیر ہے ۔ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک، سندھ آبی معاہدہ (آئی ڈبلیو ٹی) نے دو جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان ایک مستحکم فائر وال کے طور پر کام کیا،جو اب ٹوٹ گئی ہے ۔
تاہم، پہلگام واقعہ سے پہلے سے ہی ہندوستان اس ٹریٹی سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔ 2022سے اس انڈس کمیشن کی میٹنگ ہی نہیں ہو رہی تھی۔2023 میں، ہندوستان نے آبادیاتی تبدیلیوں، پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات، آب و ہوا سے متعلق تبدیلی، اور سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سمیت بدلے ہوئے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے ، پاکستان سے اس معاہدے پر از سر نو ترتیب دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ویسے تو یہ مطالبہ جائز تھا۔ٹریٹی کی کئی شقوں کو از سر نو ترتیب دینے کی ضرورت تو ہے ، مگر اس کے لیے اعتماد کا ماحول چاہیے ۔ تنازعات کے حل کا طریقہ کار (ڈی آر ایم)، جو اس ٹریٹی کے تحت طے کیا گیا،صبر آزما ہے ۔ اگر انڈس کمیشن میں تنازع کا حل نہیں نکلتا ہے ، تو فریقین عالمی بینک سے رجوع کرکے غیر جانبدار ماہر کی تقرری کروا سکتے ہیں، اور آخر میں عالمی بینک ثالثی کورٹ مقرر رکے تنازعہ کا فیصلہ کرسکتا ہے ۔ مگر ہر اس اسٹیج کے لیے کوئی ٹائم فریم نہیں ہے ۔ اس لیے تنازعہ سالوں تک لٹکا رہتا ہے ۔ہندوستان، اب معاہدے کی ذمہ داریوں سے بے نیاز ہوکر پاکستان پر ہائیڈرولک دباؤ ڈالنے کے طریقے تلاش کر رہا ہے ۔ فوری اقدامات میں سے ہندوستان اپنے آبی ذخائر کو مانسون کے بدلے خشک موسم میںاکتوبر سے فروری تک فلش کرے گا اور اس طرح پاکستان کے بوائی کے موسم میں خلل ڈالے گا۔ایک پاکستانی زرعی سائنسدان کے مطابق اس قدم سے خریف کی بڑی فصلیں جیسے کپاس، مکئی، گنا اور مختلف دالوں اور تیل کے بیجوں کے نمایاں طور پر متاثر ہونے کی توقع ہے ۔
طویل مدتی اقدامات میں، ہندوستان انڈس سسٹم کو پانی دینے والے جھرنوں پر متعدد ڈیموں کی تعمیر کا ارادہ رکھتا ہے ۔ محقق موہن گروسوامی کے مطابق خون کا بہاؤ تو روکا جا سکتا ہے لیکن پانی کا بہاؤ رک نہیں سکتا ہے ۔ان کے مطابق پانی کو پاکستان کی طرف جانے سے روکنے کی تکنیک ابھی ہندوستان کے پاس نہیں ہے ۔
وادی کشمیر، صرف 100 کلومیٹر چوڑی اور 15520.
دو دن کے اندر ہی وادی میں گیارہ مکانوں کو تہس نہس کر نے اور گرفتاریوں کے سلسلہ کی وجہ سے خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ مکانات ان خاندانوں کے تھے ، جن افراد نے واردات میں مدد دی تھی۔ ابھی تو تفتیش کا آغاز بھی نہیں ہوا۔ یہ کس طرح کا انصاف ہے ؟ اتر پردیش میں تو بلڈوزر کے ذریعے مسلمانوں کے مکان نشانہ بنائے جاتے ہیں، جس پر سپریم کورٹ نے سرزنش بھی کی ہے ۔ مگر کشمیر میں بلڈوزر کی تکلیف بھی نہیں کی گئی، بلکی دھماکہ خیز مواد آئی ای ڈی یا آر ڈی ایکس کا استعمال کرکے مکانوں کو زمیں بوس کر دیا گیا۔انگریزی روزنامہ کشمیر ٹائمز کے مطابق، جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ قصبے میں گوری گاؤں کی، 59 سالہ شہزادہ بانو کا گھر رات کے اندھیرے میں زمین بوس کر دیا گیا۔اس کو بتایا گیا کہ اس کا بڑا بیٹا عادل ٹھوکراس حملے میں ملوث ہے اور تین دن قبل وہ گھر آیا تھا۔ عادل 2018سے غائب ہے ۔ وہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ جس بندوق بردار کی تصویر کو عادل بتایا جاتا ہے ، وہ اس کا بیٹا نہیں ہے ۔رات گئے گوری گاؤں کو فوج نے نرغے میں لیا اور مقامی آبادی کو سرسوں کے کھیتوں کی طرف دھکیلا۔ آدھی رات کو پورا گاؤ ں دھماکہ سے لر ز اٹھا۔ شہزادہ کا گھر زمین بوس ہو چکا تھا۔ شہزادہ کا کہناہے کہ اگر فورسز کے مطابق عادل تین دن قبل گھر آیا تھا، تو اس کو گرفتار کیوں نہیں کیا۔
ایک سینئر صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا، ‘اس طرح کے اقدامات خوف کے ساتھ ساتھ عام آدمی کے دلوں میں نفرت کے بیج بوتے ہیں۔’سری نگر سے ممبر پارلیمنٹ روح اللہ مہدی نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر لکھا، ‘کشمیر اور کشمیریوں کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے ۔شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں ایک عسکریت پسند طالب لالی جو جیل میں ہے ، کے بھائی الطاف لالی کو پولیس اسٹیشن بلایا گیا۔ اگلے روزاسکی لاش گھر پہنچی۔ ہندوستانی میڈیا چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ لشکر کا ایک کمانڈر فوج کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہوا ہے ۔الطاف تو کبھی انڈرگراونڈ نہیں تھا، بلکہ یومیہ مزدور تھا۔ دہلی میں مقیم اسٹریٹجک تجزیہ کار پروین ساہنی کا کہنا ہے ، اس اجتماعی سزا سے حکومت ایک بڑی آبادی کو علیحدگی کی طرف دھکیل رہی ہے ۔ ہندوستان کی دیگر شہروں میں کشمیری تاجروں، اور طالب علموں کو دھمکیا ں مل رہی ہیں، مکان مالکان ان سے مکان خالی کروارہے ہیں۔ہاسٹلوں میں ان کا جینا اجیر ن کردیا گیا ہے ۔ سوگ میں بھی ان کو حب الوطنی کے ثبوت دینے پڑتے ہیں۔ جو افراد سیاحوں کے قتل میں ملوث ہیں، ان پر ضرور مقدمہ چلا کر ان کو سز ادلوائیں، مگر افراد خانہ کے مکانات مسمار کرنا کس طرح کا انصاف ہے ۔ ایک اور تجزیہ کار کے مطابق، ایسا لگتا ہے جیسے اس حملے کا انتظار کیا جا رہا تھا تاکہ کشمیر میں فلسطین جیسی صورتحال برپا کی جاسکے ۔
معروف صحافی سدھارتھ وردراجن سوال کرتے ہیں کہ کبھی مالیگاؤں 2008 کیس کی کلیدی ملزم پرگیہ ٹھاکر کی رہائش گاہ کو مسمار کیا گیا تھا، یا لیفٹیننٹ کرنل شری کانت پرساد پروہت، میجر رمیش اپادھیائے (ریٹائرڈ)، اجے رہیرکر، سدھاکر دویدی، سدھاکر چترویدی اور سمیرنییر کے گھر گرائے گئے تھے ۔ ٹھاکر کو تو مودی نے 2019 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا ٹکٹ دیا تھا اور وہ پارلیامنٹ کی رکن بن گئی تھیں۔حالیہ عرصے میں خاص طور پر 2019 کے بعد جہاں کشمیر میں مقامی معیشت کی حالت ناگفتہ بہ ہے ، سیاحتی شعبہ نے کسی حد تک اس کو سہارا دیا تھا۔
ایک اندازے کے مطابق، سیاحت اب گروس اسٹیٹ جی ڈی پی کا سات فی صد اور ہارٹیکلچر دس فی صد ہے ۔ 2024 میں 35 لاکھ افراد سیاحت کی غرض سے کشمیر وارد ہو گئے تھے ۔ اس سال لگتا تھا کہ ایک ریکارڈ تعداد سیاحوں کی کشمیر آئے گی۔ مگر سیاحوں کی ہلاکت نے سیز ن شروع ہونے سے قبل ہی اس کو ختم کردیا۔ ہفتہ وار کشمیر لائف کے مطابق مئی اور دسمبر 2025 کے درمیان کشمیر کے دورے کی منصوبہ بندی کرنے والے 62 فیصد خاندانوں نے اپنے دورے منسوخ کر دیے ۔ہندوستان کے نیوز چینلوں نے ملک پر جنگی جنون سوار کردیا ہے ۔
معروف دفاعی تجزیہ کار سشانت سنگھ نے ماہ نامہ کاروان کے مارچ کے شمارے میں پلوامہ اور بالا کوٹ حملوں پر اپنے ایک تحقیقی مضمون کے آخر میں تحریر کیا کہ،’ایک سیاسی طور پر کمزور مودی،جو کمزور معیشت سے نبرد آزما ہے ، کسی بہانے سے ایک بار پھر ملک کی توجہ پاکستان کی طرف مبذول کروانے کی کوشش کراسکتا ہے ۔’ سشانت سنگھ کی یہ پیشن گوئی ایک ماہ بعد ہی حقیقت کی شکل میں سامنے آگئی ہے ۔
گائے ، مسلمان اور پاکستان، ہندو قوم پرستوں کے تین اہم ہتھیار ہیں۔ ان میں گائے کا کارتوس تو چل کر اب بیکار ہو گیاہے ، 2024 کے عام انتخابات میں یہ تو طے ہوگیا کہ مسلمان کا استعمال بہت زیادہ پولرائزیشن نہیں کرپاتا ہے ۔وقف کا جو قانون پارلیامنٹ سے پاس کیا تھا، اس پرسپریم کورٹ سے پھٹکار تو پڑہی رہی ہے ، گراؤنڈ پر وہ اثر نہیں بنا پا رہا ہے ۔ اس طرح پاکستان ایک واحد کارتوس ہے ، جو سریع الاثر اور انتہائی پولرائزیشن کرواکر اس کو ووٹ میں بھی تبدیل کروادیتا ہے ۔2019کا الیکشن اس کی مثال ہے ۔
سابق کابینہ سکریٹری کے ایم چندر شیکھر کے مطابق، اس جنگ کا خمیازہ ہندوستانی صنعت اور فوج کو بھگتنا پڑے گا۔ ان کے مطابق، پاکستان کے پاس کھونے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے ، مگر ہندوستان کی معاشی ترقی کو بڑا دھچکا لگنے کا اندیشہ ہے ۔سال 2029تک ملک کو پانچ ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا، بس پھر خواب ہی رہ جائے گا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کاماحول قائم کرنے کی سعی کی جاتی، تنازعے سلجھائے جاتے ، تو یہ خطہ دنیا میں ایک مثال بن جاتا۔قدرت نے اس خطے کو کیا کچھ نہیں عطا کیا ہے ، مگر کمی ہے نیت کی اور ایک اسٹیٹس مین کی۔ بد اعتمادی کی فراوانی اور تنگ نظر لیڈرشپ نے اس خطے کو یرغمال بنا کر رکھ دیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جنوبی کشمیر کے میں ہندوستانی میں ہندوستان ہندوستان کے دیوندر سنگھ کرنے کے لیے پاکستان کے سیاحوں کے سیاحوں کی سیاحوں کو واقعات کو کو گرفتار کی وجہ سے اور اس کے افراد کو کے مطابق اس علاقے انہوں نے کہنا ہے نہیں ہو کیا تھا میں ایک دیا تھا اس حملے سکتا ہے کیا گیا کے ساتھ جا سکتا گئی تھی اس حملہ کا کہنا آیا تھا نہیں ہے جاتا ہے گئے تھے میں بھی کے بعد اور ان رہا ہے کیا کہ کی ایک تھا کہ کے پاس کی گئی نے اور کی طرف گیا ہے رہی ہے
پڑھیں:
کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔
بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔
بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔
یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں
خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔
ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔
مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟
چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔
اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔
یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔
نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔
دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔
واپس لاہور آتے ہیں۔
آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔
ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔
آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟
مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی
شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر