بجلی بلوں میں 5روپے80 پیسے فی یونٹ کے حساب سے ریلیف
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
شاہدسپرا:وفاقی حکومت کی جانب سے صارفین کو بجلی کے بلوں میں مکمل طور پر ریلیف نہ دیا جا سکا,بجلی کے بلوں میں صارفین کو 5روپے80 پیسے فی یونٹ کے حساب سے ریلیف دیا گیا.
ذرائع کے مطابق ایک روپیہ پچاس پیسے فی یونٹ کے حساب سے ریلیف کا فیصلہ کوارٹر ایڈجسٹمنٹ سے مشروط ہے،نیپرا کی جانب سے کوارٹر ایڈجسٹمنٹ کی منظوری کے بعد باقی ریلیف دیا جا سکے گا۔
وزیراعظم نے صارفین کے لئے 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ کے حساب سے ریلیف کا اعلان کیا تھا،فیول پرائس اور کوارٹر ٹیرف ایڈجسٹمنٹس کی مد میں صارفین کو ریلیف دیا گیا۔
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی
ٹیرف سبسڈی کی مد میں بھی صارفین کو بلوں میں ریلیف دیا گیا،کوارٹر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر ایک روپے نوے پیسے ریلیف دیا گیا۔
فروری کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اعشاریہ چھیالیس روپے فی یونٹ ریلیف دیا گیا،اپریل کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اعشاریہ نوے روپے فی یونٹ کا ریلیف دیا گیا، تمام ایڈجسٹمنٹس پر جنرل سیلز ٹیکس لگا کر مجموعی طور پر ریلیف بنایا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔