آٹے کی قیمت میں اضافہ، گھی کی قیمتوں میں بڑی کمی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)مارکیٹ ذرائع کے مطابق آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا جبکہ ایک ماہ کےدوران گھی کی قیمتوں میں خاصی کمی دیکھی گئی۔
ذرائع کے مطابق درجہ اول کا گھی ہول سیل میں 550 روپے فی کلو میں فروخت ہونے لگا۔ درجہ دوم کا گھی 30 روپے فی کلو سستا ہوکر ہول سیل500روپے کا ہوگیا۔ درجہ سوم50 روپے سستا ہوکر390 روپے فی کلوہول سیل ہوگیا۔
دوسری جانب کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 20 کلو آٹے کی قیمت میں دو ہفتوں کے دوران 130 روپے کا اضافہ ہوگیا۔
فلور ملز مالکان نے کہا کہ گندم فی من 2300 روپے سے زائد میں مل رہی ہے، دو ہفتے قبل گندم کی قیمت اوپن مارکیٹ میں کم تھی۔ فلور ملز مالکان کا کہنا تھا کہ گندم کی قیمت مستحکم ہونے سے آٹے کی قیمت کم ہوگی۔
بھارتی سیاستدان کا مودی کواستعفیٰ دیکر چائے بیچنےکا مشورہ، کمزور ترین وزیراعظم قرار دیدیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کی قیمت
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔