نادرا کا نان چپ شناختی کارڈز کیلئے نیا فیس اسٹرکچر اور ڈیجیٹل فیچرز کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
ویب ڈیسک: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے نان چپ شناختی کارڈ رکھنے والے شہریوں کے لیے نئی سہولیات اور نظرثانی شدہ فیس اسٹرکچر کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت وہ بغیر اسمارٹ کارڈ پر منتقل ہوئے جدید ڈیجیٹل سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔
نادرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نان چپ شناختی کارڈز اب اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں دستیاب ہوں گے جن میں رنگین تصویر، بہتر شناختی تصدیق اور ہر کارڈ پر ایک خصوصی کیو آر کوڈ شامل ہوگا۔ اس کی مدد سے شہری نادرا کی موبائل ایپ "پاک آئی ڈی" کے ذریعے اپنے شناختی کارڈ کے ڈیجیٹل ورژن تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی
نئے فیس اسٹرکچر کی تفصیل کے مطابق نارمل کارڈ 400 روپے، ارجنٹ کارڈ 1150 روپے، ایگزیکٹو کارڈ 2150 روپے ہے.
مزید برآں، اعضاء کے عطیہ دہندگان اور معذور افراد کے کارڈز پر مخصوص نشانات شامل کیے جائیں گے تاکہ ایمرجنسی یا خصوصی سہولت کے مواقع پر ان کی آسان شناخت ممکن ہو سکے۔
نادرا کے اس اقدام سے ان لاکھوں شہریوں کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے جو تاحال چپ والے اسمارٹ شناختی کارڈز حاصل نہیں کر سکے تھے۔ نئی پالیسی سے روایتی اور ڈیجیٹل شناختی نظام کے درمیان فرق کم کرنے میں مدد ملے گی اور شہریوں کی سہولت کو ترجیح دی جائے گی۔
یہ اپریل ہسٹری کا گرم ترین اپریل کیوں تھا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔