ضلعی عدلیہ میں ڈبل شفٹ متعارف کروانے جا رہے ہیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ضلعی عدلیہ میں ڈبل شفٹ متعارف کروانے جا رہے ہیں، جو عدالتی افسران رضاکارانہ 2 تا 5 کام کریں گے ان کی 50 فیصد تنخواہ بڑھائی جائے گی۔
چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے صحافیوں سے ملاقات کی، اس دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کی ملاقات میں چین اور ترکیہ کے دورے کا بتانا چاہوں گا، جسٹس امین الدین، جسٹس شاہد وحید اور ضلعی عدلیہ کے 2 جج ساتھ تھے۔
انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران چینی سپریم پیپلز کورٹ کے چیف جسٹس سے ون آن ون ملاقات ہوئی تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ ملاقات میں انصاف کی فراہمی کےنظام میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر گفتگو اور بنیادی طور پر چین کے نظام انصاف کی فراہمی میں ٹیکنالوجی کی فراہمی پر بات ہوئی۔
چیف جسٹس پاکستان کے مطابق دونوں چیف جسٹسز کے درمیان ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے ایم او یو سائن کیا گیا، ٹیکنالوجی ٹرانسفر، کیس مینجمنٹ سے متعلق ایم او یو میں معاملات شامل ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے بتایا کہ ایران کے چیف جسٹس سے بھی ملاقات ہوئی تھی، ایران آئندہ سال ایس سی او کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ چین میں ہینگ جو گئے جہاں چین کا آئین ڈرافٹ ہوا وہاں بھی گئے، وہاں جاکر لیپ ٹاپ کھولا اور انٹرنیٹ نہیں چل رہا تھا، بتایا تو وہاں کھلبلی مچ گئی، ساری ٹیم آ گئی انہوں نے کہا کہ یہاں انٹرنیٹ ایک سرچ انجن ونگ کے ذریعے چلتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترکیے میں آئینی عدالت کی چھتیسویں سالگرہ تھی، ترکیے نے نظام انصاف کی فراہمی میں ٹیکنالوجی کا بھر پور استعمال کیا، ترکیے کے ساتھ بھی ٹیکنالوجی استعمال کے حوالے سے ایم او یوز سائن کیے، ترکیے میں چیف جسٹس بنگلادیش سے ملاقات بہت گرمجوشی سے ہوئی، توقع ہے چین، ترکیے، ایران، بنگلادیش سے پاکستانی عدلیہ کے تعلقات کو ادارہ جاتی شکل دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ میرے ایک ہفتے کے دورے کا مقصد صرف یہی تھا کہ پاکستان کی عدلیہ ان ملکوں کی طرح ٹیکنالوجی کے استعمال سے بہتر ہو، انصاف کی فراہمی کا مقصد شہریوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانا ہے، ٹیکنالوجی کسی گولی کی مانند نہیں کہ فوراً کھا لی جائے۔
چیف جسٹس پاکستان نے یہ بھی کہا کہ اے آئی کے استعمال کےلیے پہلے پورا بندوبست ہونا چاہیے، ہائی کورٹس میں سپریم کورٹ سے بہتر ٹیکنالوجی کا استعمال ہو رہا ہے، سپریم کورٹ میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی سطح ہائی کورٹس سے کم ہے، ٹیکنالوجی کے استعمال کے اقدامات کیے، اب تک سافٹ کاپی اور تین ہارڈ کاپیاں جمع ہوتی تھیں۔
ان کا کہنا تھا 15 جون سے 31 جولائی تک پیپرلیس کورٹ روم کی طرف جا رہے ہیں، سپریم کورٹ ججز جانفشانی سے کام کر رہے ہیں، اس وقت زیرِالتوا مقدمات کم ہو کر 56 ہزار تک آ گئے ہیں، کرمنل مقدمات کےلیے تین بینچ بنا دیے ہیں، ڈیتھ اپیلوں اور عمر قید کی سزاؤں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام پاک بھارت کشیدگی کی وجہ سے تناؤ میں ہے، اللّٰہ کرے گا سب ٹھیک ہوجائے گا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے مقدمات پر ادارہ جاتی ردعمل سے متعلق قومی عدالتی پالیسی میں غور ہوگا، ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹس سے متعلق 3 سال سے پرانے مقدمات بھجوانے پر غور ہوگا، وکلا کو بلا کر پوچھا ہے، حکومت کا ابھی تک ردعمل نہیں آیا، آئی ایم ایف وفد کا زور تھا کہ کمرشل معاملات کو ترجیجی بنیادوں پر رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس بھارت بھی موجود تھے، وہ باتیں اگلی ملاقات میں کروں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی کے استعمال چیف جسٹس پاکستان انصاف کی فراہمی میں ٹیکنالوجی استعمال کے جسٹس یحیی نے کہا کہ انہوں نے رہے ہیں
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔