بھارت کی زرعی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش اعلان جنگ تصور ہوگی: پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
بھارت کی زرعی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش اعلان جنگ تصور ہوگی: پاکستان WhatsAppFacebookTwitter 0 6 May, 2025 سب نیوز
نیویارک(سب نیوز ) پاکستانی سفیر برائے امریکا رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ بھارت کی 24 کروڑ افراد پر مشتمل زرعی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش اعلان جنگ تصور کی جائے گی۔پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے امریکی تھنک ٹینک نمائندگان کو پاک بھارت کشیدہ صورتحال پر بریفنگ دی اور پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ بھارت نے پہلگام واقعے سے متعلق کوئی ثبوت پاکستان یا دنیا کے سامنے نہیں رکھا، بھارت کے جنگی جنون نے علاقائی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، ہم عزت و وقار کے ساتھ امن پر یقین رکھتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کا طرزِ عمل لاقانونیت پر مبنی ہے، بھارت کے اقدامات میں آج سے نہیں بلکہ ہمیشہ سے لاقانونیت کا عنصر نمایاں ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے کیس کی سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل نیشنل فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کا افتتاح، 50اداروں کے درمیان پل کا کردار ادا کریگا مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ میں پھر تقسیم، نظرثانی منظور، جسٹس عقیل اور جسٹس عائشہ کا اختلاف سندھ سے سینیٹ کی خالی نشست پر پیپلز پارٹی کے وقار مہدی کامیاب عمران سے ملاقات کا دن، عمر ایوب اور پولیس کے درمیان جھڑپ، عامر ڈوگر پر تشدد اسرائیل کا یمنی دارالحکومت پر فضائی حملہ، صنعا ائیرپورٹ کو مکمل طور پر ناکارہ کرنیکا دعویCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔