اسلام آباد:

بھارتی حملے کیخلاف حکومتی اور اپوزیشن شخصیات یک زبان ہوگئیں اور دشمن کو بھرپور جواب دینے کا بھی اعلان کر دیا۔

نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کی طرف سے پاکستان پر میزائل داغنے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کا میزائل حملہ کھلی جارحیت ہے، مودی نے ابتدا کر دی اور اختتام اب پاکستان کرے گا۔ مظفرآباد، کوٹلی اور بہاولپور پر حملے ناقابل معافی جرم ہیں۔

شیری رحمان نے کہا کہ بھارت نے میزائل داغ کر اپنی ناپاک نیت کو بے نقاب کر دیا، پاکستان اب خاموش نہیں بیٹھے گا، بھارت نے امن کی پیشکش کو کمزوری سمجھا، بھارت کو اب اس کی زبان میں ہی جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مودی سرکار نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا، پاکستان کا جواب دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دے گا، بھارتی میزائل حملوں میں معصوم پاکستانیوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا۔

پنجاب کے سینیئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا کہ ‏پاکستانی قوم اپنی بہادر افواج کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا۔ بھارت کے بزدلانہ حملوں جنہوں نے معصوم شہریوں، مساجد، اور نیلم جہلم جیسے اہم آبی منصوبوں کو نشانہ بنایا، کے ردعمل میں ہماری افواج نے بے مثال طاقت اور بہادری کے ساتھ کارروائی کی۔

انہوں نے کہا کہ دشمن کے پانچ طیارے گرا کر ہماری افواج نے نہ صرف اپنی غیر معمولی بہادری اور مہارت کا مظاہرہ کیا بلکہ بھارت کو یہ دو ٹوک پیغام دیا کہ پاکستان کی سرحدی سالمیت ایک سرخ لکیر ہے، جسے عبور کرنے کی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ پاکستان امن کا خواہاں ضرور ہے، لیکن کمزوری نہیں، ہر وار کا جواب دو گنا دے گا۔

سینیئر وزیر نے کہا کہ ہماری افواج فولاد سے بنی دیوار ہیں، جو دشمن کے ہر وار کو خاک میں ملا دیں گی۔ ان کی شجاعت، قربانی اور مادرِ وطن کی خودمختاری کے لیے غیر متزلزل عزم ہر دل کو فخر سے بھر دیتا ہے۔ پوری قوم اپنی ان بہادر افواج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔ پاکستان زندہ باد!”

سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے ویڈیو بیان میں کہا کہ بھارت کی جانب سے رات کی تاریخ میں نہتے پاکستانیوں پر حملہ کیا جس پر پاکستانی فضائیہ نے پانچ رافیل طیارے چشم زدن میں مار گرائے، دشمن کو کرارا جواب دیا۔

شیخ رشید نے کہا کہ دشمن سمجھتا تھا ڈرا لے گا لیکن پاکستانی قوم نہ جھکی ہے اور نہ جھکے گی، اگر پاکستان نے فیصلہ کر لیا تو دشمن محفوظ نہیں رہے گا۔ آپ نے ہماری مسجد شہید کی، اب برداشت ختم ہوگئی۔

سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان زندہ قوم ہے اور اسلام شہادت کو اعزاز سمجھتا ہے، شہادت ہمارے لیے فخر ہے، وقت آیا تو ہر قرض اتارا جائے گا اور دشمن کو ایسی سزا دیں گے کہ دوبارہ پاکستان کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کہ بھارت جواب دیا دشمن کو جائے گا

پڑھیں:

ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔

طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔

متعلقہ مضامین

  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری