پاکستان نے بھارت کے سندور کا تندور بنا دیا، حنیف عباسی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے سندور کا تندور بنا دیا ہے، دشمن نے دراندازی ہمیشہ رات کی تاریکی میں کی۔
نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے مطابق حنیف عباسی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بھارت کو پاکستان آنے کی جرأت نہیں ہوئی اس نے پاکستانی حدود کے باہر سے مساجد اور سویلین پر حملے کیے، اس نے جو کچھ کیا یہ عالمی دہشتگردی کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے 6 طیاروں کو مار گرایا، رافیل طیارے ریت کے ٹیلے ثابت ہوئے، بھارت میں آج صف ماتم بچھ گیا ان کی قوم مودی پر تھو تھو کر رہی ہے، شاہینوں نے دنیا کو دکھا دیا ہماری ایئر فورس دنیا کی بہترین ایئر فورس ہے، پوری قوم کی جانب سے شاہینوں کو مبارک باد دیتا ہوں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا لاپتہ افراد کمیشن کے چیئرمین کی تعیناتی 4 ہفتے میں کرنے کا حکم
انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک جوان شہید ہوا تو ہم گھس کر 100 ماریں گے، ایل او سی کے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے بھارت کو اڑا کر رکھ دیا، بھارت بالی ووڈ کا کردار ادا کر کے فلم بنانے کی کوشش کر رہا تھا، مودی نے سفید جھنڈا لگا کر شکست کا اعتراف کر لیا لیکن ہم چھوڑیں گے نہیں۔
ان کاکہناتھا کہ’بھارت کو بار بار پہلگام واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا کہا، سوشل میڈیا پر بھارتی عوام کہہ رہے ہیں مودی نے بہار الیکشن کی وجہ سے دہشتگردی کی، پہلگام میں جو سیاح مارے گئے اس کے پیچھے مودی سرکار ہے، آپ کو سندور کا بہت شوق ہے پہلے بھی آپ کی مانگوں میں سندور بھرے ہیں، ہم نے ابھی کچھ کیا ہی نہیں صرف ٹریلر دکھایا ہے۔‘
کیا واقعی پاکستان نے بھارت کے 5 طیارے گرائے ہیں؟ بھارتی حکام کا جواب دینے سے گریز
حنیف عباسی نے مزید کہا کہ بھارت نے غلطی کی ہم نے اپنا دفاع کیا ہے، بھارت پانی بند کرے گا تو وہاں وہاں ماریں گے کہ یاد کرو گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان نے بھارت کے حنیف عباسی کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ