بھارت کے سکھ فوجیوں کی بغاوت، پنجاب کے کالج میں پاکستانی پرچم لہرادیا، گرپتونت سنگھ پنوں
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
سکھ فار جسٹس کے سربراہ اور خالصتان تحریک کے سینئر رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارتی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے بتایا کہ ان کی اپیل پر سکھ فوجیوں نے پاکستان سے اظہار یکجہتی کے لیے بھارتی پنجاب کے دشمیش کالج میں پاکستانی جھنڈا لہرا دیا۔
کالج کی دیواروں پر لکھا ہے کہ ’سکھ پاکستانی آرمی کو خوش آمدید کہتے ہیں‘۔انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں گرپتونت سنگھ پنوں نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فوج میں بغاوت شروع ہوچکی، بھارت میں سکھ فوجیوں کے فون رکھ لیے گئے ہیں، ان کے خاندانوں کو بھی پیغامات بھجوائے گئے ہیں کہ کسی سے رابطہ نہ رکھیں۔
گرپتونت سنگھ پنوں نے مبینہ طور پر ایک سکھ فوجی کی آڈیو کال بھی سنوائی اور کہا کہ انہوں نے سکھ فوجیوں سے پاکستان آرمی کا ساتھ دینے کے لیے بھارت کی جانب سے نہ لڑنے کی اپیل کی تھی، جس کے بعد یہ بغاوت سامنے آئی ہے، اب سکھ فوجی پاکستان کی فوج کا ساتھ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ فوجی ٹینکوں پر خالصتان کے جھنڈے لگا کر پاک فوج کے ساتھ مل کر خالصتان بنائیں گے، دہلی کو خالصتان کا مرکز بنائیں گے۔
اس کے علاوہ لندن میں سکھ کمیونٹی کی جانب سے بھارت کے خلاف احتجاج کیا گیا، اور نریندر مودی کے پوسٹر کو پاؤں میں روندا گیا۔سکھ فار جسٹس کے انسٹاگرام پیج پر اس احتجاج کی ویڈیو بھی اپ لوڈ کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: گرپتونت سنگھ پنوں نے سکھ فوجیوں
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔