آرمی چیف کی ایئر ہیڈ کوارٹرز آمد، دشمن کو جواب دینے پر شاہینوں کو خراج تحسین پیش
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد میں چیف آف آرمی سٹاف کے ایئر ہیڈکوارٹر کے دورے کے موقع پر انہوں نے چیف آف ائیر سٹاف اور ایئر فورس کے شاہینوں کو بھارتی ایئر فورس کی طرف سے کی جانے والی جارحیت کے مذموم منصوبے کو فوراً ناکام بنانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ اسلام ٹائمز۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر نے ایئر ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا، ایئر ہیڈ کوارٹرز پہنچنے پر چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے گرم جوشی سے استقبال کیا۔ ذرائع کے مطابق جنرل عاصم منیر نے چیف آف ائیر سٹاف اور ایئر فورس کے شاہینوں کو بھارتی ایئر فورس کی طرف سے کی جانے والی جارحیت کے مذموم منصوبے کو فوراً ناکام بنانے پر خراج تحسین پیش کیا۔
آرمی چیف نے پاکستان ایئر فورس کو ایک بار پھر دشمن کے متعدد جہاز مار گرانے اور اپنا لوہا منوانے جبکہ تینوں سروسز کے مابین بہترین تعاون کو بھی سراہا۔ علاوہ ازیں ملاقات کے دوران اس عزم کو دہرایا گیا کہ کسی کو بھی پاکستان کی جغرافیائی سالمیت کی خلاف ورزی نہیں کرنے دی جائے گی اور جو بھی اس کی کوشش کرے گا اس کی قیمت ادا کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔