امریکی نشریاتی ادارے ’’سی این این ‘‘ نے بھارت کے رافیل طیارے کے پاک فضائیہ کے ہاتھوں تباہ ہونے کی تصدیق کی۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرانسیسی عہدیدار نے بھارتی طیارہ کے تباہ ہونے کی تصدیق کردی۔

ایک اعلیٰ فرانسیسی انٹیلی جنس اہلکار نے سی این این کو بتایا ہے کہ پاکستان نے بھارت کا ایک رافیل جنگی طیارہ مار گرایا ہے۔

فرانسیسی انٹیلی جنس اہلکار نے مزید بتایا کہ یہ پہلی مربتہ ہوا ہے کہ رافیل طیارہ کسی جنگ میں مار گرایا ہو۔

فرانسیسی عہدیدار کا کہنا ہے کہ فرانس کی حکومت اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا رات کے وقت پیش آئے واقعے میں ایک سے زیادہ رافیل طیارے تباہ ہوئے ہیں یا نہیں۔

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گرنے والے ایک طیارے کے ملبے کی تصاویر میں فرانسیسی کمپنی کا لیبل واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ پرزہ واقعی رافیل طیارے کا تھا۔

دوسری جانب فرانسیسی وزارت دفاع اور رافیل طیارہ ساز کمپنی ’’Dassault Aviation‘‘ نے بھارت کا طیارہ مار گرانے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

رافیل طیارہ 10 ٹن وزنی، دو انجنوں پر مشتمل ملٹی رول لڑاکا جہاز ہے جو کہ 30 ملی میٹر کی توپ، فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، لیزر گائیڈڈ بموں اور کروز میزائلوں سے لیس ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے فرانس سے 38 رافیل طیارے خریدے تھے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: رافیل طیارے نے بھارت کی تصدیق

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کولمبیا میں چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار، 4 افراد ہلاک
  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی