بھارتی حملوں پر پاکستانی عوام کا جوش، ولولہ دیدنی، ملک بھر میں ریلیاں
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
لاہور‘ شیخوپورہ‘گوجرانوالہ‘ حافظ آباد‘ اسلام آباد (رپورٹنگ ٹیم+نمائندگان) بھارت کے بزدلانہ حملے پر پاکستانی عوام نے زبردست جوش وجذبے کا مظاہرہ کیا۔ لوگ رات گئے بڑی تعداد میں گھروں سے بے خوف نکل آئے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔ عوام میں جوش و ولولہ اس قدر تھا کہ وہ بارڈر پار کر کے دشمن کو سبق سکھانے پر اصرار کرتے رہے۔ اس موقع پر شہریوں نے کہا کہ وہ مودی اور اس کی بزدل فوج سے بالکل نہیں ڈرتے اور اگر ہماری ریاست اجازت دے تو ہم خود ہی ان سے نمٹ سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں بھارتی بزدلانہ حملوں کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ جماعت اسلامی اور مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام لاہور سمیت ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں اظہار یکجہتی اور پاکستان زندہ باد ریلیاں نکالی گئیں۔ مرکزی مسلم لیگ کے ’’پاکستان زندہ باد مارچ‘‘ میںشرکاء نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور بھارت کے خلاف شدید غصے کا اظہار کیا۔ جماعت اسلامی نے کل 9مئی کو ملک گیر یوم عزم منانے کا اعلان کیا ہے جبکہ11مئی بروز اتوار لاہور میں عظیم الشان ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ریلی نکالی جائے گی۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب جاوید قصوری، گوجرانوالہ سے ضلعی امیر مظہر اقبال رندھاوا و دیگر نے بھارت کی جانب سے مساجد اور عام عوام کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی اور اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا۔ مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں قاری محمد یعقوب شیخ، فیصل ندیم، چوہدری محمد سرور، انجینئر عادل خلیق‘ مزمل اقبال ہاشمی‘ میاں حبیب الرحمان و دیگر نے خطاب کرتے کہا مرکزی مسلم لیگ بھارتی بزدلانہ حملوں کے خلاف قوم کو متحد و بیدار کرے گی۔ پاکستانی عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بھارت کو سخت جواب دیا جائے گا۔ آخر میں ملکی سلامتی واستحکام کیلئے دعا کی گئی۔ مرکزی مسلم لیگ کے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی قیادت میں مختلف کالجز کے طلبہ نے بھی اظہار یکجہتی ریلی نکالی جو ایم اے او کالج سے شروع ہو کر سول سیکرٹریٹ پر اختتام پذیر ہوئی۔ وزیرتعلیم نے کہا بھارتی طیارے گرا کر پاک فضائیہ نے مودی کا غرور خاک میں ملا دیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستان جمہوریت پارٹی‘ پاکستان تحریک انصاف اور سول سوسائٹی نے ملکر لاہور ہائیکورٹ بار کے ڈیموکریٹک لان میں احتجاجی ریلی نکالی۔ پاکستان جمہوری پارٹی کے صدر امتیاز رشید قریشی‘ سماجی کارکن ڈاکٹر شاہد نصیر‘شہباز رشید ایڈووکیٹ و دیگر نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا بھارت کسی بھول میں نہ رہے، پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار جنرل ہائوس میں اجلاس منعقدہ ہوا، جس کے بعد جی پی او چوک میں ریلی بھی نکالی گئی۔ صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ملک آصف نسوانہ نے کہا بھارت نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کیا۔ وکلاء افواج پاکستان کے ساتھ ہیں، ضرورت پڑی تو وکلاء خود بارڈر پر پہنچ جائیں گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں وکلاء اور لاء افسروں نے بھی پاک فوج کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ وکلاء اور لاء افسر ہائیکورٹ ہال میں جمع ہوگئے۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راجہ ضمیر الدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہندو بنیے نے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ حافظ آباد میں بھی مذہبی‘ سماجی اورکاروباری تنظیموں کی جانب سے ریلیاں نکالی گئیں۔ مرکزی ریلی کی قیادت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر حامد ناصر گورائیہ‘ اسسٹنٹ کمشنر سلمان اکبر اور چیف آفیسر ایم سی اکرام اللہ سندھو نے کی۔ شرکاء نے افواج پاکستان کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے۔ مقررین نے کہا پاکستان کا بچہ بچہ دفاع وطن کیلئے تیار ہے۔ علاوہ ازیںگیلپ پاکستان نے موجودہ جنگی حالات پر نیا سروے کیا ہے جس میں 100 اضلاع سے پاکستانیوں نے حصہ لیا۔ سروے کے مطابق 93 فیصد پاکستانیوں نے کہا بھارت نے جنگ مسلط کی تو خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔ 77 فیصد نے پہلگام حملے کے پاکستان پر الزام کو مسترد کر دیا۔ 55 فیصد نے اسے بھارت کا فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔ 74 فیصد نے جنگ سے بچنے کا مشورہ دیا، 27 فیصد نے جنگ کی حمایت کی۔ 64 فیصد نے موجودہ کشیدگی میںسیاسی جماعتوں کے اتحاد کو خوش آئند قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مرکزی مسلم لیگ کے پاکستان زندہ باد نے کہا بھارت فیصد نے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب