وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی لندن میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے گلوبل سی ای او سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے آج لندن میں اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے گلوبل چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مسٹر بل ونٹرز سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات میں پاکستان کی معیشت میں بینک کے اہم اور دیرینہ کردار کو سراہا گیا اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال ہوا۔
وزیر خزانہ نے پاکستان میں معاشی اصلاحات اور ترقی کے لیے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کی مسلسل حمایت پر اظہار تشکر کیا۔
انہوں نے بینک کے موجودہ مالی معاونت کے منصوبوں پر بھی گفتگو کی اور بینک کے تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
وزیر خزانہ نے حکومت پاکستان کے معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے اصلاحاتی اقدامات کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
وفاقی وزیر برائے خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب برطانیہ کے 3 روزہ سرکاری دورے پر لندن پہنچ گئے۔
محمد اورنگزیب نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ جیسے بین الاقوامی شراکت داروں کے اعتماد کو حوصلہ افزا قرار دیا، بل ونٹرز نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور استحکام کے سفر کی تعریف کی اور پاکستان کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
دوسری جانب بل ونٹرز نے پاکستان کے ترقیاتی اہداف کے حصول میں طویل المدتی شراکت داری کا یقین دلایا۔
ملاقات میں دونوں جانب سے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسٹینڈرڈ چارٹرڈ محمد اورنگزیب بینک کے
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔