اسماء عباس اپنی بہن سُمبل شاہد کی چوتھی برسی پر آبدیدہ، ویڈیو بلاگ سوشل میڈیا پر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
پاکستانی ٹیلی ویژن کی سینئر اداکارہ اور میزبان اسماء عباس نے اپنی مرحوم بہن سُمل شاہد کی چوتھی برسی کے موقع پر ایک جذباتی ویڈیو بلاگ شیئر کیا ہے جو سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہو رہا ہے وی لاگ میں اسماء عباس اپنی بڑی بہن کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں انہوں نے کہا کہ سُمل باجی کو دنیا سے رخصت ہوئے چار سال بیت گئے لیکن یہ وقت یوں لگا جیسے پلک جھپکنے میں گزر گیا اسماء عباس نے سُمل شاہد کو ایک معصوم اور خوبصورت شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی بیماری کا اندازہ بھی نہ ہو سکا وہ آخری لمحے تک زندگی سے بھرپور تھیں اداکارہ نے کہا کہ والدین اور بہن کی جدائی نے ان کی زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا کیا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں انہوں نے مزید کہا کہ زندگی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے مگر اپنے پیاروں کے بغیر یہ ادھوری لگتی ہے اس موقع پر اسماء عباس نے مداحوں سے سُمل شاہد کے لیے دعا کی درخواست بھی کی یاد رہے کہ اسماء عباس ان دنوں ڈرامہ سیریل ’دستک‘ میں اپنی شاندار اداکاری سے ناظرین سے خوب داد سمیٹ رہی ہیں ساتھ ہی وہ یوٹیوب پر وی لاگنگ بھی کر رہی ہیں جنہیں مداحوں کی جانب سے بہت سراہا جا رہا ہے
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسماء عباس کہا کہ
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔