باغ،پاک فوج کابھارتی جارحیت کا مؤثر جواب، دشمن کو بھاری نقصان
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
باغ (نیوز ڈیسک)آزاد کشمیر کے علاقے باغ میں دشمن کی جارحانہ کارروائیوں کے خلاف پاک فوج کی مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
بھارتی افواج کی جانب سے آزاد کشمیر کے باغ سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ اور بمباری کا پاک فوج کی طرف سے زبردست اور منہ توڑ جواب دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق دشمن کی جانب سے کی گئی بزدلانہ اور مختلف نوعیت کی کارروائیوں کے جواب میں پاک فوج نے انتہائی مؤثر انداز میں کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دشمن کو خاطر خواہ نقصان پہنچا۔
یہ جوابی کارروائیاں پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کی گئیں۔
باغ سیکٹر دشمن کی کارروائیوں کا مرکز رہا، تاہم پاک فوج کی بروقت، بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائی نے دشمن کو نہ صرف فوری جھٹکا دیا بلکہ اس کے اثرات دشمن کی اگلی حکمت عملی پر بھی گہرے پڑے۔
https://dailyausaf.
https://dailyausaf.com/wp-content/uploads/2025/05/4.mp4
مزیدپڑھیں:پاکستانی پائلٹ کی بھارتی حراست کی خبر جھوٹی قرار، وزارت اطلاعات نے تردید کر دی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: دشمن کو پاک فوج دشمن کی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔