اسلام آباد:

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی زیر صدارت نو تشکیل شدہ نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی نے عدالتی نظام میں ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

کمیٹی میں سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت اور ہائی کورٹس کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) کے ماہر جج صاحبان، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن (MOITT)، نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن (LJCP) کے اہم نمائندگان شامل ہیں.

مزید پڑھیں: بھارتی جارحیت سے شہریوں کی شہادت؛ سپریم کورٹ میں تعزیتی اجلاس منعقد

کمیٹی نے متفقہ طور پر عدلیہ کے لیے کارکردگی کی نگرانی کا ایک ڈیش بورڈ تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ MOITT اس مقصد کے لیے ایک ٹیم تعینات کرے گا جس میں سپریم کورٹ اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن میں تعینات ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا.

یہ انٹرایکٹو ڈیش بورڈ نگرانی کو بہتر بنائے گا، شواہد پر مبنی فیصلہ سازی میں معاونت کرے گا اور عدالتی اداروں میں زیادہ احتساب اور شفافیت کو فروغ دے گا، ڈیش بورڈ کا ایک فعال پروٹوٹائپ پندرہ دنوں کے اندر پیش کیے جانے کی توقع ہے،کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ MOITT ورچوئل سماعتوں کے لیے ویڈیو کانفرنسنگ کے لیے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کا ایک جامع سائٹ سروے کرے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ ڈیش بورڈ کے لیے

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی