پاکستان اور بھارت کے ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات، کشیدگی میں اضافہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد پاکستان سپر لیگ کے میچز متحدہ عرب امارات منتقل پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی میں بھارت کا انڈین پریمئیر لیگ 2025ء کرنے کا فیصلہ پاک بھارت کشیدگی: پی ایس ایل کے بقیہ میچز یو اے ای منتقل
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے بقیہ میچز اب متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوں گے۔
یہ فیصلہ بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔پی سی بی کے مطابق بدھ کے روز راولپنڈی میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان میچ کے دوران مبینہ طور پر ایک بھارتی جاسوس ڈرون کی فضا میں موجودگی کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔ بھارت کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
(جاری ہے)
اس واقعے کے بعد جمعرات کو کراچی کنگز اور پشاور زلمی کے درمیان ہونے والا میچ مؤخر کر دیا گیا تھا۔
پی سی بی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے بقیہ آٹھ میچز، جو راولپنڈی، ملتان اور لاہور میں ہونا تھے، اب متحدہ عرب امارات میں منعقد کیے جائیں گے۔
چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے اپنے بیان میں کہا، ’’پی سی بی ہمیشہ اس مؤقف پر قائم رہا ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ رکھا جانا چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’تاہم، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کو نشانہ بنانے کا بھارتی اقدام نہایت غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک ہے، جس کا مقصد بظاہر ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ ایکس کو سبوتاژ کرنا تھا۔ پی سی بی نے یہ فیصلہ مقامی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو، جو ہمارے معزز مہمان ہیں، بھارت کی ممکنہ مہم جوئی سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا ہے۔‘‘.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پی سی بی
پڑھیں:
ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
راولپنڈی(نیوز ڈیسک)راولپنڈی میں مبینہ طور پر جعلی بین الاقوامی ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے صحت کی جعلی دستاویزات پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، اے بی این نیوز نے شہر میں کام کرنے والے مبینہ جعلی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعویٰ کیا ہے۔ نیٹ ورک پر افراد کو جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا شبہ ہے۔
رپورٹ نے سرکاری صحت کے ریکارڈ کے غلط استعمال اور صحت عامہ اور بین الاقوامی سفری تعمیل کے لیے ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کی تحقیقات کریں گے اور اگر دعوے درست ثابت ہوئے تو ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔