مولانا فضل الرحمان نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں قید رکھنے کو غلط قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے بانی چئیرمین پی ٹی آئی کو جیل میں قید رکھنے کو غلط قرار دے دیا۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں صحافی نے سوال کیا کہ ملک جنگی صورتحال میں ہے اور پی ٹی آئی اب بھی حکومت پر تنقید کر رہی ہے، کیا آپ ان کو سمجھانے میں یا مذاکرات میں کوئی کردار ادا کریں گے؟۔
جس پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے، وہ بھی ملک کے لئے لڑنے کی بات کرتے ہیں، حکومت بھی لڑنے کی بات کرتی ہے، ان کا لیڈر جیل میں ہے، کارکنان بھی جیل میں ہیں، ان کو لگتا ہے کہ باہر آنے سے ملک کو فائدہ ہو گا، اس لئے وہ یہ مطالبہ بھی سامنے رکھتے ہیں، باقی معاملہ عدالت میں ہے، میں سیاسی بندہ ہوں، کسی بھی سیاسی جماعت کے لیڈر کو جیل رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکہ ابھی اپنی پوزیشن کو واضح نہیں کر رہا، بڑی طاقتوں کا اپنی پوزیشن واضح نہ کرنا ظاہر ہے یہ ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے، امریکا نے اسرائیل کا ساتھ دیا، 60 ہزار انسانوں کے قتل عام پر امریکہ خاموش ہے اور وہ اسرائیل کو حق بجانب سمجھتا ہے، امریکہ اپنا مفاد دیکھے گا اس کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو محاذ پر لڑ رہے ہیں وہ جنگ کی حکمت عملی خود بناتے ہیں، جنگ اس حد تک نہیں پہنچی کہ ایٹمی جنگ بن جائے، اس وقت پاکستان کو کئی فتوحات حاصل ہوئی ہیں، پاکستان کے لئے اچھی خبریں آ رہی ہیں اور بھارت جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے، من گھرٹ خبریں پھیلا رہا ہے۔
قبل ازیں مولانا فضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ موجودہ حالات میں سفارتی کوششوں سے مطمئن نہیں ہوں، پاک افواج بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کررہی ہیں۔ ہمارے سفارتی مشنز کو اس وقت مختلف ممالک کے دورے اور اپنے دوست ممالک کو انگیج کرنا چاہئے تھا مگر ہم نے وہ سفارتی کوششیں نہیں دکھائیں جو ان حالات میں ہونی چاہئیں، موجودہ سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے میں مطمئن نہیں ہوں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت نے ہماری مساجد اور مدارس کو نشانہ بنایا، آج جمعہ کو ہم نے ملک بھر میں یوم دفاع وطن منانے کا فیصلہ کیا ہے، 11 مئی کو پشاور اور 15 مئی کو کوئٹہ میں ملین مارچ ہوگا جس میں پاکستان کے موقف کو اجاگر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں۔ فوج سے گلے ہیں لیکن جب وطن عزیز کا معاملہ آئے گا تو وہ ہمیں دو قدم آگے پائیں گے، سوشل میڈیا پر جنگ کے حوالے سے ہونے والے پروپیگنڈے کو روکنے کیلئے حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شہری دفاع کیلئے انصار الاسلام کے کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت کی ہے، خدانخواستہ کہیں نقصان ہو وہاں شہریوں کی مدد کے لئے پہنچنے اور طبی امداد مہیا کرنے کیلئے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ بھارت ہمارے خلاف اسرائیلی ہتھیار استعمال کررہا ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم ان دونوں کیخلاف ایک ہی لب و لہجہ اختیار کریں۔ بہادری اور خوبصورت حکمت علمی کے ساتھ دفاع پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ہندوستان نے ہماری مساجد و مدارس کو نشانہ بنایا ہے۔ ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کے دفاع میں صف اول میں لڑنے کا عزم رکھنے والا دینی مدرسے کا نوجوان ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دینی مدرسہ بین الاقوامی دباؤ میں بھی رہتا ہے اور حکومتی دباؤ میں بھی رہتا ہے، مدارس کے ساتھ یہ تصادم ختم ہونا چاہیے اور مدارس کے ساتھ کی گئی کمنٹمنٹس کو پورا کرکے دنیا کو بتایا جائے کہ ہم ایک ہیں، اگر میں ملکی دفاع میں آپ کے ساتھ ایک صف میں ہوں تو پھر آپ کو بھی میرے ساتھ ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا، تعاون دوطرفہ معاونت کا نام ہے۔ ہم اپنے تعاون اور شانہ بشانہ لڑنے کا اعلان کرچکے ہیں پتہ نہیں آپ کب مدارس کو پاکستانی سمجھیں گے۔ ان حالات میں ایک ہی قومی بیانیہ ہونا چاہیے۔
مزیدپڑھیں:اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بڑا اضافہ،اہم خبر آ گئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے جیل میں کے ساتھ
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔