کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈگاری میں غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی خاتون بانو کی مبینہ والدہ گل جان کا ویڈیو بیان سامنے آ گیا ہے، جس میں انہوں نے قتل کو ’بلوچی رسم و رواج‘ کے مطابق قرار دیتے ہوئے سرداروں اور معتبرین کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ویڈیو بیان میں گل جان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی بانو کوئی کم سن لڑکی نہیں تھی بلکہ 5 بچوں کی ماں تھی۔ اس کے بچے نور احمد (18 سال)، واصد (14 سال)، فاطمہ (12 سال)، صدیقہ (9 سال) اور ذاکر (6 سال) ہیں۔

یہ بھی پڑھیے بلوچستان: غیرت کے نام پر قتل، ایف آئی آر میں کیا لکھا گیا؟

 انہوں نے کہا کہ بحثیت بلوچ، کسی کا دل نہیں مانتا کہ ایک ماں اپنے بچوں کو چھوڑ کر کسی کے ساتھ بھاگ جائے، لیکن جب ایسا ہوا تو ہمیں غیرت پر فیصلہ کرنا پڑا۔

گل جان نے اپنے بیان میں کہا کہ بانو احسان اللہ نامی شخص کے ساتھ 25 دن تک فرار رہی، جو نہ صرف ان کے گھر کے قریب رہتا تھا بلکہ بارہا ان کے بیٹوں کو دھمکیاں بھی دیتا رہا اور متنازع ویڈیوز بنا کر بھیجواتا تھا۔ خاتون کے مطابق، اس کے بیٹے جلال کو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

گل جان نے یہ تسلیم کیا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا اور دعویٰ کیا ’ہم نے جو کچھ کیا وہ غیرت کے تحت اور بلوچی رسم و رواج کے مطابق کیا، نہ کہ کسی جرگے یا عدالت کے ذریعے۔‘

یہ بھی پڑھیے ڈیگاری واقعہ: بانو اور احسان کا پوسٹ مارٹم کرنے والی پولیس سرجن کیا بتاتی ہیں؟

انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے براہِ راست اپیل کی کہ ہمارے سردار اور معتبرین کو رہا کیا جائے۔ ہمارے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، اور مرد حضرات موجود نہیں ہیں، ہمیں انصاف چاہیے، ہم نے ناحق کچھ نہیں کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بانو قتل کیس بلوچستان دوہرا قتل غیرت کے نام پر قتل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بانو قتل کیس بلوچستان دوہرا قتل غیرت کے نام پر قتل غیرت کے نام پر قتل گل جان

پڑھیں:

طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا

نامور غزل اور لوک گلوکارہ طاہرہ سید نے سوشل میڈیا پر اپنی وفات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ مکمل طور پر صحت مند اور خیریت سے ہیں۔

وائرل افواہوں کے بعد طاہرہ سید نے فیس بک پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں کہا کہ ان کی صحت اور انتقال سے متعلق پھیلائی جانے والی تمام خبریں بے بنیاد اور جھوٹی ہیں۔ گلوکارہ کے مطابق انہیں معلوم ہوا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کی صحت کے حوالے سے مختلف غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔

اپنے پیغام میں طاہرہ سید نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے وہ بالکل ٹھیک ہیں اور اس وقت نیویارک میں اپنی نارمل اور خوشگوار زندگی گزار رہی ہیں۔ انہوں نے مداحوں کی محبت، فکر اور دعاؤں پر شکریہ بھی ادا کیا۔

        View this post on Instagram                      

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ غیر مصدقہ اور جھوٹی خبروں کو آگے پھیلانے سے گریز کیا جائے اور سوشل میڈیا پر موجود غلط معلومات کی اصلاح میں کردار ادا کیا جائے۔

گلوکارہ نے ان تمام افراد کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے افواہوں کے بعد ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا۔

دوسری جانب معروف فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین نے بھی طاہرہ سید کی تازہ تصویر شیئر کرتے ہوئے ان کی صحت مند ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے بھی ان کا وضاحتی ویڈیو پیغام اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر طاہرہ سید کے انتقال سے متعلق جھوٹی خبریں تیزی سے پھیل گئی تھیں، جس کے باعث مداحوں میں شدید تشویش اور افسوس کی لہر دوڑ گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا