ملک بھر میں چینی کی فی کلو قیمت 200 روپے تک پہنچ گئی ، شہری پریشان
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)ملک بھر میں فی کلو چینی کی قیمت 185 روپے سے لے کر 200 روپے تک پہنچ گئی ، چینی مہنگی ہونے سے شہریوں کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔
کراچی میں ایک ہفتے کے دوران چینی کی قیمت میں 8 روپے کا اضافہ ہوا ہے ، پشاور میں پرچون مارکیٹ میں چینی 190 روپے فی کلو میں فروخت کی جا رہی ہے، ہول سیل مارکیٹ میں فی کلو قیمت 180 روپے جبکہ 50 کلو بوری کی قمیت 9 ہزار مقرر ہے۔
لاہور میں چینی 190 سے لے کر 200 روپے کلو تک فروخت ہونے لگی ، دوسری جانب انتظامیہ کی کارروائی پر بیشتر دکانداروں نے چینی کی فروخت بند کر دی۔
علاوہ ازیں کوئٹہ میں فی کلو چینی کی قیمت 190 روپے تک پہنچ گئی ہے، ہول سیل مارکیٹ میں چینی کی فی کلو 180 روپے ہے۔
فیصل آباد: بڑا آن لائن فراڈ بے نقاب، غیرملکیوں سمیت 149 افراد گرفتار
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: میں چینی چینی کی فی کلو
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔