پاکستانی ہیکرز کا کارنامہ، آپریشن سالار کا آغاز، کئی بھارتی ویب سائٹس ہیک
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)دہشت گرد بھارت کی سائبر دہشت گردی پر پاکستانی ہیکرز نے جوابی وار کرتے ہوئے آپریشن سالار کا آغاز کردیا اور چار بڑی بھارتی ویب سائٹس ہیک کرلیں۔
نجی ٹی وی کے مطابق پاکستانی ہیکرز کے والنٹیئر گروپ نے “آپریشن سالار” کے نام سے ایک منظم سائبر مہم کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت بھارتی آن لائن انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی کارروائی میں دہشت گرد بھارت کی چار اہم ویب سائٹس کو ہیک کر کے ان کا ڈیٹا حاصل کیا گیا، ان ویب سائٹس پر پاکستانی قومی پرچم بھی چسپاں کر دیا گیا۔
ہیکرز کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی بھارتی سائبر حملوں، پاکستان مخالف مواد اور کشمیری عوام پر جاری ظلم کے ردِ عمل میں کی گئی ہے۔
“آپریشن سالار” کو ایک مکمل سائبر جنگ کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا ہے، پاکستانی ہیکرز کا کہنا ہے کہ ہم پرامن قوم ہیں، لیکن اگر کوئی ہماری سالمیت، خودمختاری یا قومی وقار کو چیلنج کرے گا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، آپریشن سالار ایک وارننگ ہے، انجام نہیں۔
سوشل میڈیا پر “آپریشن سالار” ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین پاکستانی ہیکرز کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں اور اس جوابی کارروائی کو بھارت کا “سائبر ناک آؤٹ” قرار دے رہے ہیں۔
مختلف صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس آپریشن کو مزید وسعت دی جائے اور بھارتی میڈیا، مالیاتی نظام اور دفاعی سائٹس کو بھی نشانہ بنایا جائے۔
مزیدپڑھیں:بھارتی جارحیت پر پُراسرار خاموشی؛ مشی خان، عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان پر برس پڑیں
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستانی ہیکرز آپریشن سالار ویب سائٹس
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔