آئی ایم ایف نے پاکستان کے اقتصادی جائزے کی منظور ی دیدی ،ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
آئی ایم ایف نے پاکستان کے اقتصادی جائزے کی منظور ی دیدی ،ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)7ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالرکی اگلی قسط جاری کرنے کا فیصلہ،آئی ایم ایف نے پاکستان کے اقتصادی جائزے کی منظوری دیدی۔
تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کرنے کی منظوری دیدی ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرہنگامی حالات میں امدادی کاموں کی تربیت دینے کا فیصلہ، اسلام آباد میں سیکڑوں نوجوان سامنے آگئے ہنگامی حالات میں امدادی کاموں کی تربیت دینے کا فیصلہ، اسلام آباد میں سیکڑوں نوجوان سامنے آگئے سعودی وزیر مملکت خارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات، پاک بھارت کشیدگی پر تبادلہ خیال عوام کا جذبہ اور اعتماد سرحدوں کے محافظوں کی کامیابی کا ضامن ہے،ڈاکٹر مصطفی بھٹی پہلگام واقعہ کا ایک مقصد فتنہ الخوارج اور بلوچستان میں دہشتگردوں کو اسپیس فراہم کرنا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر کی پاکستان ایئر... مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی کیس میں دو ججز کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا سیاست میں سے تقسیم کو ختم کرنا ہوگا، ہم آہنگی کی بھی بات ہونی چاہیے، اعظم نذیر تارڑ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف نے پاکستان کی اگلی قسط جاری کرنے ایک ارب ڈالر کا فیصلہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔