ٹرمپ ٹیرف: یورپی یونین نے جوابی کارروائی کے لیے سر جوڑ لیے
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
یورپی یونین نے امریکی مصنوعات بشمول کاروں اور ہوائی جہازوں پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین بلبلا اٹھی، کیا ٹرمپ ٹیرف امریکا کے گلے پڑجائیگا؟
فرانسیسی اخبار لی مونڈے کے مطابق دھمکی دیتے وقت یورپی یونین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی ترجیح اس اتحاد کو توڑے بغیر آگے بڑھنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے امریکی محصولات کے تناظر میں یورپی بڑی احتیاط اور بنیادی توجہ کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور اہم اقتصادی اور سلامتی کے مفادات کو داؤ پر رکھتے ہوئے اپنے کمزور اتحاد کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اس تناظر میں، انہوں نے، اس لمحے کے لیے، ، جب کہ امریکا نے پہلے ہی اسٹیل، ایلومینیم، اور درآمد شدہ کاروں پر 25 فیصد اور دیگر متعدد مصنوعات پر 10 فیصد اضافی چارجز عائد کیے ہیں لیکن یورپی یونین نے اس پر اب تک کوئی جوابی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے یورپی کمیشن، جو تجارتی معاملات کا ذمہ دار ہے، غیر فعال نہیں رہا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بات چیت میں ممکنہ ناکامی کی تیاری کرتے ہوئے واشنگٹن کے ساتھ طاقت کا توازن قائم کرنے کے لیے وہ اپنا ردعمل تیار کر رہا ہے۔
مزید پڑھیے: ٹرمپ ٹیرف وار: کینیڈا نے امریکی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف لگادیا
جمعرات کو یورپی یونین نے امریکی سامان کی دوسری فہرست جاری کی جن پر برسلز واشنگٹن کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے میں ناکام ہونے کی صورت میں اضافی چارجز لگا دیے جائیں گے۔
اس فہرست میں زرعی مصنوعات، کیمیکل اور پلاسٹک، ایرو اسپیس، آٹوموبائل، الیکٹرانک آلات، اور مشینی اوزار شامل ہیں۔ یورپی یونین ممالک میں سنہ 2024 میں یہ اشیا 95 بلین یورو میں فروخت ہوئیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ ٹیرف: چین کا امریکا کے خوشامدی ممالک کو سزا دینے کا اعلان
یورپی کمیشن کاکہنا ہے کہ رکن ممالک کو اب اپنی رائے دینی ہوگی تاکہ 27 رکن ممالک پر مبنی یورپی یونین جون کے آخر یا جولائی کے اوائل تک کوئی فیصلہ کرسکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی مصنوعات ٹرمپ ٹیرف یورپی یونین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی مصنوعات ٹرمپ ٹیرف یورپی یونین یورپی یونین نے ٹرمپ ٹیرف کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔