جے ڈی وینس کی بھارت میں موجودگی: حملے سے پہلے کوئی وعدہ ہوا جس سے بھارت کو حوصلہ ملا؟ چینی تجزیہ نگار کا سوال
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
جے ڈی وینس کی بھارت میں موجودگی: حملے سے پہلے کوئی وعدہ ہوا جس سے بھارت کو حوصلہ ملا؟ چینی تجزیہ نگار کا سوال Pakistan and India flags together relations textile cloth, fabric texture WhatsAppFacebookTwitter 0 10 May, 2025 سب نیوز
بیجنگ(آئی پی ایس )چین کے ممتاز تجزیہ کار اور سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر، وکٹر گائو نے پاک بھارت کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہو رہا ہے، وہ عالمی سطح پر باعثِ تشویش ہے اور فوری جنگ بندی ناگزیر ہے۔ چینی نشریاتی ادارے سی جی ٹی این کے پروگرام میں وکٹر گا نے کہا کہ دونوں ممالک زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، فوری طور پر جنگ بندی کریں اور کسی بھی قسم کے مزید تصادم سے گریز کریں تاکہ خطے میں امن قائم رکھا جا سکے۔
وکٹر گا کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس نئی دہلی میں تھے اور فورا بعد یہ سب کچھ ہو گیا، اب سوال یہ ہے کہ آیا امریکہ اور بھارت نے آپس میں کوئی مشاورت کی یا عسکری تعاون بڑھانے کا وعدہ کیا جس سے بھارت کو یہ حوصلہ ملا ہو کہ وہ کسی ثبوت کے بغیر ہی کارروائی کرے؟پاک چین تعلقات پر بات کرتے ہوئے وکٹر گا نے چین کا واضح موقف پیش کیا اور کہا کہ چین اور پاکستان کے تعلقات لوہے جیسے مضبوط ہیں، ہم واقعی ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک فوج کا وار؛ صرف 5 گھنٹے میں بھارتی غروردفن کردیا؛ دشمن گھٹنے ٹیکنے پر مجبور پاک فوج کا وار؛ صرف 5 گھنٹے میں بھارتی غروردفن کردیا؛ دشمن گھٹنے ٹیکنے پر مجبور بھارت کیخلاف فتح ون میزائل کی لانچ بھارتی بزدلانہ حملے میں شہید بچوں کے نام بھارت پاکستان کے ساتھ تنازع کو مزید نہیں بڑھانا چاہتا ،سفارتی و عسکری حکام کی بریفنگ آپ اپنے ائیر بیس نہیں بچا سکتے تو جنتا کو کیسے بچائیں گے؟ انڈین چینل کا اپنی ہی حکومت سے سوال پاک بھارت کشیدگی: وزیرِ اعظم شہباز شریف کی صدر آصف علی زرداری سے اہم ملاقات بھارت کی پاکستانی حملے میں اپنے ایک اعلیٰ اہلکار کی ہلاکت کی تصدیقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔