بھارتی غرور کو خاک میں ملانے والے پاکستان کے فتح-ون میزائل کی خصوصیات کیا ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بھارت کے جنگی جنون کو خاک میں ملانے کا وقت آیا تو پاکستان نے دشمن کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کے نتیجے میں متعدد ایئربیسز سمیت کئی ایئر فیلڈز اور چیک پوسٹیں تباہ کر دیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی فتح-1 میزائل سسٹم نے بھارتی نام نہاد دفاعی نظام کو زمین بوس کر دیا، پاکستان کے جدید الفتح میزائل سسٹم میں زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل کی 2 قسمیں ہیں، فتح 1 اور فتح 2 مختلف آپریشنل رینجز اور میدان جنگ کی ضروریات کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
بھارتی غرور کو خاک میں ملانے والا فتح میزائل 120 کلومیٹر کی حد تک ضرب کا حامل ہے جو دشمن کے ٹھکانوں کو آسانی سے نشانہ بناسکتا ہے، یہ میزائل بنیادی طور پر ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم ہے، اس میں بیک وقت 8 میزائل شامل ہوتے ہیں۔
جنوری 2021 میں ترجمان پاک فوج نے بتایا تھا کہ پاکستان میں مقامی سطح پر گائیڈڈ ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم تیار کرلیا گیا۔اس میزائل سے قبل پاک آرمی چینی ساختہ اے-100 سسٹم استعمال کر رہی تھی جس کی رینج 100 کلو میٹر تھی جب کہ فتح-1 کی ہدف کو نشانہ بنانے کی حد 120 کلو میٹر ہے۔
فتح 2 جدید ورژن ہے جو 400 کلومیٹر تک کی رینج تک ہدف کو نشانہ بناسکتا ہے، یہ پاکستان کی علاقائی دشمنیوں کو روکنے اور جواب دینے کی صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھاتا ہے، فتح 2 میزائل سیٹیلائٹ گائیڈڈ ٹارگٹنگ سسٹم ہے جو مقررہ اہداف کو نشانہ بنانے میں زیادہ درستگی دکھاتا ہے۔
ان میزائلوں کو گزشتہ دنوں ہونے والی مشقوں کے دوران بھی کامیابی سے آزمایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔