چین کی پاکستان کے لیے حمایت کی تجدید
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کا کہنا ہے کہ چین نے اسلام آباد کے لیے حمایت کی تجدید کی ہے۔ نائب وزیر اعظم اوروزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے آج چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی سے بات چیت کی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے وزیر خارجہ وانگ ژی کو گزشتہ شب کی بھارتی جارحیت اور پاکستان کے احتیاط سے متوازن ردعمل کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورتحال پر بریفنگ دی۔
وزیر خارجہ وانگ ژی نے پاکستان کے تحمل کا اعتراف کیا اور مشکل حالات میں اس کے ذمہ دارانہ انداز کی تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کی تجدید کی کہ چین، پاکستان کے ہر موسم کے تزویراتی تعاون کے شراکت دار اور آہنی دوست کی حیثیت سے، پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی آزادی کو برقرار رکھنے میں مضبوطی سے اس کے ساتھ کھڑا رہے گا۔دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے کی اہمیت پر زور دیا اور آئندہ دنوں میں مسلسل رابطہ کاری برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
نور خان بیس پر حملے کے وقت پی ایس ایل کے غیر ملکی کھلاڑیوں کا طیارہ کہاں تھا؟ ایسا دعویٰ کہ آپ بھی شکر کریں گے
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان کے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔