خوشی ہے پاکستان، بھارت جنگ بندی پر رضا مند ہوگئے، امریکی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ خوشی ہے پاکستان اور بھارت فوری جنگ بندی پر رضا مند ہوگئے ہیں۔
واشنگٹن سے جاری بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ پچھلے 48 گھنٹوں سے میں اور نائب صدر جے ڈی وینس بھارتی اور پاکستانی حکام سے رابطے میں تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، قومی سلامتی مشیر عاصم ملک سے بات ہوئی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، وزیر خارجہ جے شنکر اور قومی سلامتی مشیر اجیت ددول سے بھی بات ہوئی۔
اُن کا کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ پاکستان اور بھارت فوری جنگ بندی پر رضامند ہوگئے ہیں۔
مارکو روبیو نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک وسیع تر مسائل پر کسی غیر جانب دار مقام پر بات چیت کے لیے بھی رضامند ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعظم نریندر مودی کی دانشمندی، تدبر اور مدبرانہ قیادت قابل تعریف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔