گذشتہ بدھ سے شروع ہونے والے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران دو امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے چین میں تیار کردہ جے-10 لڑاکا طیاروں کے ذریعے بھارت کے کم از کم دو فوجی طیارے مار گرائے گئے، جن میں ایک فرانسیسی ساختہ “رافال” طیارہ بھی شامل ہے۔
اگرچہ بھارت نے کسی بھی طیارے کے تباہ ہونے کی تردید کی ہے تاہم پاکستان کے وزیر دفاع و خارجہ نے جے-10 طیاروں کے استعمال کی تصدیق کی، البتہ انہوں نے استعمال شدہ ہتھیاروں یا میزائلوں سے متعلق کچھ نہیں کہا۔
خفیہ معلومات کا خزانہ
بھارت اور پاکستان کے درمیان اس تناؤ نے چین کے لیے سنہری موقع فراہم کیا، جسے ماہرین ایک “قیمتی انٹیلی جنس خزانے” سے تعبیر کرتے ہیں۔ رائیٹرز کے مطابق چین نے اس کشمکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کے خلاف خفیہ معلومات اکٹھا کرنے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے استعمال ہونے والے چینی جنگی طیاروں اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعے چین بھارت کی دفاعی حکمت عملی، حرکات اور سکیورٹی ڈھانچے سے متعلق انتہائی اہم معلومات حاصل کر رہا ہے۔
سکیورٹی اور سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی عسکری ترقی اتنی پیش رفت کر چکی ہے کہ وہ نہ صرف بھارتی فوج کی زمینی نقل و حرکت کو سرحدی تنصیبات سے براہ راست دیکھ سکتا ہے، بلکہ بحر ہند اور خلا سے بھی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔
267 سیٹلائٹس پر مشتمل انٹیلی جنس نیٹ ورک
بین الاقوامی ادارہ برائے اسٹریٹیجک اسٹڈیز (IISS) کے مطابق چین کے پاس اس وقت 267 سیٹلائٹس موجود ہیں جن میں 115 خالصتاً انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ 81 سیٹلائٹس ایسے بھی ہیں جو الیکٹرانک اور فوجی اشاروں پر نظر رکھتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک بھارت جیسے علاقائی حریفوں کے مقابلے میں کئی گنا وسیع اور جدید ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور بھارت دونوں اپنی سرحدی تنصیبات اور دفاعی صلاحیتوں کو زمینی اور فضائی سطح پر تیز رفتاری سے بڑھا رہے ہیں، مگر چین نے خاص طور پر انٹیلی جنس کے شعبے میں نمایاں برتری حاصل کی ہے۔

بھارتی میزائلوں اور کمانڈ سسٹم پر چینی نظر
چینی انٹیلی جنس ٹیمیں بھارت کے دفاعی نظام، کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے استعمال پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی دلچسپی صرف میزائلوں کی پرواز اور ہدف تک پہنچنے کی درستگی میں نہیں، بلکہ بھارتی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی ساخت اور کام کے طریقہ کار میں بھی ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ اگر بھارت روس کے تعاون سے تیار کردہ براہموس سپرسانک کروز میزائل کو جنگ میں استعمال کرتا ہے تو یہ چین کے لیے انتہائی اہم معلومات کا ذریعہ بن سکتا ہے کیونکہ تاحال اس میزائل کے عملی استعمال کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔
بحر ہند میں چین کی خفیہ سرگرمیاں
چین نے حالیہ برسوں میں بحر ہند میں اپنی موجودگی میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اس نے خلائی نگرانی کے جہاز، سمندری تحقیقاتی کشتیاں اور ماہی گیری کے جہاز تعینات کیے ہیں، جن کے بارے میں خیال ہے کہ یہ بھی خفیہ معلومات اکٹھی کرنے کے مشن پر ہیں۔
گذشتہ ہفتے کے دوران مبصرین نے غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں چینی ماہی گیر کشتیوں کے قافلے کو بحر عرب میں بھارتی نیول مشقوں کے قریب 120 سمندری میل کے فاصلے پر متحرک دیکھا۔ اس سے یہ تاثر مزید پختہ ہوتا ہے کہ چین اس پورے بحران کو اپنی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو وسعت دینے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
چین اور بھارت: دائمی حریف
چین اور بھارت دو بڑی علاقائی طاقتیں ہیں جن کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں 3800 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو 1950 کی دہائی سے متنازعہ چلی آ رہی ہے۔ 1962 میں اس تنازع پر ایک مختصر مگر شدید جنگ بھی ہو چکی ہے.

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خفیہ معلومات انٹیلی جنس کر رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔

پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔

پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔

مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔

خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ