جنگ بندی کی حمایت؛ انتہاپسندوں کے دباؤ پر سلمان خان کو ٹویٹ حذف کرنا پڑگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بھارت میں کوئی ایسا شعبہ نہیں جو ہنوتوا کے غنڈوں کے ہاتھوں سے محفوظ ہو اور مسلمان شوبز اسٹارز کو تو ہر قدم پر عصبیت جھیلنا پڑتی ہے۔
ایسا ہی کچھ بالی ووڈ کے بجرنگی بھائی جان کے ساتھ ہوا جو پہلے ایک گینگ کے نشانے پر ہیں اور قاتلانہ حملوں سے بال بال محفوظ رہے ہیں۔
اس بار سلمان خان کو ہندوتوا کے غنڈوں نے سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ اور بے جا تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کی دھمکیاں بھی دیں۔
سلمان خان کا صرف اتنا قصور تھا کہ انھوں نے جنگ بندی کی حمایت میں ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے سیز فائر پر شکر ادا کیا تھا۔
مودی سرکار کے اکسائے ہوئے تربیت یافتہ انتہاپسند غنڈوں نے اداکار سلمان کے ساتھ پوسٹ پر بدتمیزی کی اور دھمکیاں دیں۔
جس پر سلمان خان کو اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی۔ بھارت میں اظہار رائے کی بنیادی حق پر قدغن کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔
اس سے قبل بھی سوارا بھاسکر سمیت مسلم برادری کے لیے نرم دل رکھنے والے اور مودی کی نفرت آمیز پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کے ساتھ یہی کچھ کیا جاتا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔