جنگ بندی کی حمایت؛ انتہاپسندوں کے دباؤ پر سلمان خان کو ٹویٹ حذف کرنا پڑگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
بھارت میں کوئی ایسا شعبہ نہیں جو ہنوتوا کے غنڈوں کے ہاتھوں سے محفوظ ہو اور مسلمان شوبز اسٹارز کو تو ہر قدم پر عصبیت جھیلنا پڑتی ہے۔
ایسا ہی کچھ بالی ووڈ کے بجرنگی بھائی جان کے ساتھ ہوا جو پہلے ایک گینگ کے نشانے پر ہیں اور قاتلانہ حملوں سے بال بال محفوظ رہے ہیں۔
اس بار سلمان خان کو ہندوتوا کے غنڈوں نے سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ اور بے جا تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کی دھمکیاں بھی دیں۔
سلمان خان کا صرف اتنا قصور تھا کہ انھوں نے جنگ بندی کی حمایت میں ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے سیز فائر پر شکر ادا کیا تھا۔
مودی سرکار کے اکسائے ہوئے تربیت یافتہ انتہاپسند غنڈوں نے اداکار سلمان کے ساتھ پوسٹ پر بدتمیزی کی اور دھمکیاں دیں۔
جس پر سلمان خان کو اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی۔ بھارت میں اظہار رائے کی بنیادی حق پر قدغن کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔
اس سے قبل بھی سوارا بھاسکر سمیت مسلم برادری کے لیے نرم دل رکھنے والے اور مودی کی نفرت آمیز پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کے ساتھ یہی کچھ کیا جاتا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔