نیتن یاہو ہمیں قتل کرنا چاہتا ہے، صیہونی اسیر
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
حماس کی عسکری شاخ، القسام بریگیڈز نے ہفتے کی شب ایک نئی ویڈیو جاری کی جس میں صیہونی قیدیوں کی مایوسی اور ذہنی دباؤ کو دکھایا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حماس کی عسکری شاخ، القسام بریگیڈز نے ہفتے کی شب ایک نئی ویڈیو جاری کی جس میں صیہونی قیدیوں کی مایوسی اور ذہنی دباؤ کو دکھایا گیا ہے۔ فارس نیوز کے مطابق، ویڈیو میں قیدیوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاگل ہو چکا ہے اور اس کا ارادہ ہے کہ تمام قیدیوں کو مروادے۔ ویڈیو میں موجود قیدیوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، صرف اُنہیں نمبر 21 اور 22 سے پکارا گیا ہے۔ قیدی نمبر 21 نے بتایا کہ اُس کا ذہنی حال بہت خراب ہے اور جاری جنگ اُس اور دوسرے قیدیوں کی جانوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ اس نے کہا کہ قیدی نمبر 22 نے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، خاص طور پر جب اُسے معلوم ہوا کہ غزہ کی جنگ جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔
تاہم، القسام کے ایک رکن نے اُسے روک دیا۔ اس وقت وہ نہ کھا رہا ہے اور نہ پانی پی رہا ہے، کیونکہ خوراک بہت محدود ہے اور محاصرہ بھی جاری ہے۔ اسیر نے مزید کہا کہ ہر لمحہ یہاں زندگی بہت مشکل ہو چکی ہے۔ نہ ہم سو سکتے ہیں اور نہ سکون سے جی سکتے ہیں۔ اُس نے نیتنیاہو کی کابینہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کس چیز کا انتظار ہے؟ ہمارا مقدر تمہارے ہاتھ میں ہے۔ پاگل ہو گئے ہو؟ جنگ کو ابھی ختم کیوں نہیں کرتے؟ اسیر نے صیہونی عوام کو بھی پیغام دیا کہ ابھی تک کچھ قیدی زندہ ہیں۔ اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ کتنے قیدی باقی ہیں تو نیتن یاہو سے پوچھو، کیونکہ اُسے وہ سب پتا ہے جو تم نہیں جانتے۔
اسیر نے نیتن یاہو کی بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اور کتنے قیدیوں کی موت چاہتی ہو تا کہ ہم اپنے گھروں کو لوٹ سکیں؟ اس نے اسرائیلی پائلٹس سے بھی سوال کیا کہ جو اب بھی ہمیں بمباری کا نشانہ بنا رہے ہیں، وہ اپنے خاندانوں کو کیا جواب دیں گے؟ اس ویڈیو کے بعد ایک قیدی کے والد نے کہا کہ وہ صدمے میں ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا، قیدیوں کے خاندان روزانہ نیتن یاہو کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں اور حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ وہ صرف اقتدار بچانے کے لیے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کو روک رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قیدیوں کی نیتن یاہو کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔