پاکستان کے جوابی حملوں میں 4فضائی اڈوں پر ہمارے اثاثوں اور عملے کو بھی نقصان پہنچا، صوفیہ قریشی
ادھم پور، آدم پور ، پٹھان کوٹ میں ایئرفیلڈز کو نقصان، پاکستانی طیاروں نے حملے کیے ، بھارتی ترجمان
سیکرٹری خارجہ ، فوجی عہدیداروں کے اترے چہرے ،ایسا محسوس ہوا نقصانات چھپا رہے ہیں، میڈیا

بھارتی فوج نے پاکستان کی جوابی کارروائی میں فضائی حملوں سے دفاعی تنصیبات اور ایئربیسز کو نقصان پہنچنے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج سے مزید کشیدگی نہیں چاہتے تاہم اس کیلئے پاکستان اپنا رویہ ٹھیک کرے ۔نئی دہلی میں بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مصری کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران بھارتی فوج کی خواتین عہدیداروں کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے کہا کہ پاکستان نے 26 مقامات کو جیٹ، میزائل اور ڈرون سے نشانہ بنایا۔ترجمان بھارتی فوج نے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان نے ہائی اسپیڈ میزائلوں سے بھارتی ایئربیسز پر حملے کیے ، ان حملوں میں پنجاب کے ایئربیس اسٹیشن کو بھی نقصان ہوا، کچھ دیگر بھارتی بیسز پر حملے سے نقصان پہنچا ہے ۔بھارتی فوج کی ترجمان نے تصدیق کی کہ ادھم پور، آدم پور اور پٹھان کوٹ میں ایئرفیلڈز کو نقصان پہنچا، بھارتی ایئر بیسز پر پاکستانی لڑاکا طیاروں نے حملے کیے ۔انہوں نے کہا کہ پاک افواج نے ڈرونز، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار استعمال کیے ہیں، پاکستان کے حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے ، تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دعوؤں کے مطابق مکمل تباہی کسی مقام پر نہیں ہوئی۔ بھارتی فوج کی سگنل کور کی کرنل صوفیہ قریشی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے جوابی حملوں میں 4 فضائی اڈوں پر ان کے اثاثوں اور عملے کو بھی نقصان پہنچا،پاکستان نے 26 سے زیادہ مقامات پر فضائی حملے کیے ، اور ادھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور، بھوج اور بھٹنڈہ میں ایئر بیسز پر ہمارے اثاثوں اور عملے کو نقصان پہنچایا۔کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے دعویٰ کیا کہ بھارتی افواج نے پاکستان کی جانب سے آنے والے کئی خطرات کو ‘نیوٹرلائز’ کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ہم پاک فوج اور فضائیہ سے مزید کشیدگی نہیں چاہتے ، تاہم پاکستانی فوج کو اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بھارتی عہدیداروں کی پریس کانفرنس میں سیکریٹری خارجہ اور خواتین فوجی عہدیداروں کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ نقصانات کو چھپا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: نقصان پہنچا صوفیہ قریشی پاکستان کے بھارتی فوج کہ پاکستان نے کہا کہ حملے کیے کو نقصان

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت