ماں کی دعا اولاد کی تقدیر بدل دیتی ہے: مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ---فائل فوٹو
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ماؤں کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ ماں بچے کی پہلی درسگاہ اور اولین دوست ہوتی ہے۔
خدا کے انمول تحفے ’ماں‘ سے محبت کا عالمی دن آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ماں دنیا کی مخلص ترین ہستی ہے، ماں اپنی زندگی بچوں کی پرورش اور مستقبل کے لیے وقف کردیتی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ماں محبت، قربانی اور دعاؤں سے اولاد کی زندگی سنوارتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ماں کی اولاد کے حق میں دعا تقدیر بدل دیتی ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی ہے، ماں کی محبت ہی دنیا کی واحد غیر مشروط محبت ہے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ کہ ماں
پڑھیں:
محبت یا جرم
وہ معمولی شکل و صورت کی خاتون نظر آتی تھیں البتہ وقار اور تمکنت بھی چھلک رہا تھا، ایک بڑے سابقہ سرکاری عہدے دار کی بیگم اور تین بچوں کی ماں بھی تھیں، امریکا میں رہائش تھی اور ان دنوں پاکستان آئی ہوئی تھیں۔
’’ہم اس کے گھر اپنی بیٹی کیسے دے سکتے ہیں، اس کا خاندان کیا ہے، کیا ہم اس سے اپنی بیٹی کی شادی کر کے اپنا خاندان خراب کر دیں؟‘‘
خاندانی وقار، غرور اور زعم پورے خاندان میں یہ ڈائیلاگز دہرائے گئے تھے، حیرت ہی تھی کہ خاندان کی بیٹی نے برسوں پہلے اپنی مرضی سے شادی کی تھی، محبت کے اس کھیل میں اس نے اپنا اور اپنے شوہر کے خاندان کا موازنہ ہی نہ کیا تھا اور وقت گزرتا گیا، خاندان میں آنا جانا، بچوں کی تقریبات سب چلتی رہیں۔
خدا نے بیٹے بیٹیاں دیں اور ان کی اچھی تعلیم و تربیت کی، شوہر کا اچھا سرکاری عہدہ اور بیٹوں کی اچھی تعلیم لہٰذا مراعات، ٹیلنٹ گھلتے ملتے بڑھتے گئے۔ بچے خاندان کے بچوں میں گھلتے گئے ،کب کہاں اور کیسے پسندیدگی کی وہ رمق ابھری کہ جس نے ماں کے دل میں خاندان کی بیٹی کو اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کر لیا اور سوال لے کر پہنچ گئی، پر جواب مایوسی کی صورت میں ملا۔
گوری چٹی خوش شکل، ہر بات پر کھل کر قہقہہ لگانے والی کے رنگ مدھم پڑگئے، اس کی شادی خاندان ہی کے ایک وجیہہ اور کماؤ لڑکے سے ہوگئی جو بیرون ملک رہتا تھا، پر وقت نے کب کس کا منہ دیکھا ہے، جب بدلتا ہے تو اچھے اچھے اس کی زد میں آ جاتے ہیں اور وہ بھی اس کی زد میں آ گئے، یوں کماؤ پوت روزی روٹی کے پہیے میں پھنس کر رہ گیا۔
آم کے درخت کے نیچے اپنی سانسیں درست کرتی وہ خوش شکل خواب سی لڑکی اب بدل چکی تھی، چار چھوٹے بچوں کی ماں پر دل کا روگ نجانے کیسے لگ گیا تھا، اپنی سگی پھوپھی زاد بہن کے انتقال پر خود کو آنے سے روک ہی نہ سکی تھی، وہ اس بھرے پرے خاندان میں شاید اس کی آخری انٹری تھی اور پھر جلد ہی خبر ملی کہ اس کے دل کے دو والو جو پہلے ہی بند ہو چکے تھے پورے دل کو ہی بند کر گئے، ایک کہانی کا باب ختم ہو گیا۔
عالی شان خاندان پرکیا فرق پڑا کون جانے، پر چار چھوٹے بچے خوار ہو گئے۔ پیسے کی کمی، ماں کی دوری، باپ کی مجبوری، زندگی نے چھوٹی سی عمر میں بہت کچھ دکھا دیا، یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی عمر میں جب بچیوں کے پڑھنے کی عمر تھی، شادی کردی گئی۔
بڑے بوڑھے آرام سے اپنی اپنی قبروں میں جا کر سو گئے، بڑے بڑے ناموں والے اونچی شان اور مرتبے والے جنھیں لوگ عزت سے جھک کر سلام کرتے تھے، ان کی دولت اور نام سے مرعوب تھے۔ وقت تو گزر ہی جاتا ہے اور پیچھے قصے کہانیاں اور باتیں رہ جاتی ہیں۔ امریکا سے آئی ان خاتون کو دیکھ کر کہانی نے اپنے آپ کو دہرایا تھا، یہ وہی خاتون تھیں جن کے شوہر اس خوب صورت خواب سی لڑکی سے شادی کے خواہاں تھے، رشتے داری اور بچپن سے بڑھتی قرابت کسی مقام پر پہنچنا چاہتی تھی، پر ایک رعب دار آواز کی گونج اور کہانی ختم۔
ہمارے معاشرے میں برسوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے کہ دو محبت کرنے والوں کے بیچ سماج کی دیوار ضرور حائل ہو تی ہے کہیں زیادہ تو کہیں بہت زیادہ اور اس کے درمیان ہونے والے تضاد، مسائل اور الجھنیں معاشرے میں برائیوں کو جنم دیتی ہیں، کیا ہم نے کبھی اپنے ارد گرد دیکھا ہے کہ کتنے بچے اور بچیاں ایسے ہیں جو گھر سے باہر ہاتھ میں ہاتھ ڈالے یوں گھومتے پھرتے ہیں گویا انھیں زمانے کی پرواہ ہی نہیں لیکن اپنے گھر اور خاندان میں ان کے رویے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ چھوٹی عمر میں جذباتی فیصلے مستقبل میں کچھ اور ہی شکل میں ابھر کر سامنے آتے ہیں لیکن ہمارے یہاں چھوٹی عمر اٹھارہ سال کے بعد بھی جاری ہی رہتی ہے جو ہر گز بھی دانش مندی نہیں ہے۔
زندگی کے فیصلے انسان طے کرتا ہے یہ انسان کی احمقانہ سوچ ہے کہ وہ بہت عقل مند ہے، ہماری زندگی کے معاملات ہمیں اس نہج پر لے جاتے ہیں جو کسی فیصلے پر مجبورکرتے ہیں لیکن والدین کو اپنی اولاد کی زندگی اور بہتری کے لیے ظالم سماج بننے کے بجائے انسانی نفسیات کو سمجھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ محبت انسانی صحت پر بہت جلدی اثرانداز ہوتی ہے۔
محبت انسانی دماغ میں ایسے کیمیائی عوامل پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے انسان خوشی محسوس کرتا ہے، محبت سے دوری اسی طرح غم اور دکھ کے جذبات کو ابھارتا ہے۔
ایک مطالعے کے مطابق محبت انسان کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتی ہے جو لوگ محبت کرتے ہیں مختلف قسم کے انفیکشنز سے لڑنے کا دفاع ان لوگوں میں زیادہ ہوتا ہے ، جو نفرت کرتے ہیں یا رنج و غم اور حسد میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اراک فرام نے 1956 میں محبت کی نفسیات پر ایک کتاب شایع کی، اس کتاب ’’دی آرٹ آف لونگ‘‘ میں محبت کے سماجی، نفسیاتی، معاشی اور فلسفیانہ پہلوؤں کو محبت کی فطرت کے ساتھ تفصیل سے بیان کیا گیاہے۔
یہ کتاب اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں محبت کے جذبات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور غلط تصورات کو رد کیا گیا ہے، ان کے مطابق محبت سیکھنے کی چیز نہیں بلکہ یہ خود بخود ایسے ہو جاتی ہے جیسے اگر کسی کو گاڑی چلانا نہ آتی ہو اور وہ کسی حادثے کا شکار ہو جائے۔ مغربی فلسفی نے انسان کو محبت سیکھنے کے عمل پر زور دیا ہے جب کہ ہمارے مشرقی شعرا نے محبت کے بارے میں جس طرح کے تصورات کو ابھارا ہے وہ محبت سیکھنے کے عمل سے بالکل مختلف ہے۔
محبت ایک لطیف جذبہ ہے، صنف مخالف میں ہمیشہ سے ایک کشش رہی ہے لیکن اس کو انتہائی اقدام سے رد کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ہمارے ارد گرد ایسے کتنے ہی لوگ زندگی گزار رہے ہیں جو خطرے کی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد اپنی مرضی سے زندگی جی رہے ہیں، اچھی یا بری یہ قسمت کے کھیل ہیں لیکن خدائی فوج دار بننے کے بجائے اپنی مغربی رواداری اور اخلاقیات کو ضرور دیکھنا چاہیے کہ کسی عمل سے اچھا کرنے کے جنون میں اخلاقی پستیوں میں تو نہیں گر رہے۔
ہمارے یہاں ہر سال کتنے نوجوان لڑکے لڑکیاں شک کی بنیاد پر محبت کے جرم میں، کاروکاری کے الزام میں قتل ہو جاتے ہیں اور غیرت کے نام پر اس قسم کے قتل کو معاشرے میں چھوٹ دے کر بری کر دینا کیا ہماری مذہبی روایات کے مطابق ہے؟ نکاح کے مقدس بندھن کے باوجود بھی محبت کی پاداش میں سمندر پار بھی قتل کر دیے جاتے ہیں۔ انسانی انا بہت ظالم ہے جو ہمیں زعم کے بخار میں مبتلا کر دیتی ہے اور یہ ہماری جان لے کر ہی چھوڑتا ہے۔ خدا ہم سب کو نیک عمل کی توفیق دے۔(آمین)