آذان سمیع کا اپنی ماں زیبا بختیار اور شہدا کی ماؤں کےلیے خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
آذان سمیع خان پاکستانی شوبز انڈسٹری کے معروف گلوکار، اداکار اور میوزک پروڈیوسر ہیں جو اپنی والدہ زيبا بختيار کے ساتھ گہرے جذباتی رشتے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ زيبا بختيار نے اپنے طویل اور شاندار کیرئیر میں نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ماں کے عالمی دن کے موقع پر آذان نے اپنی والدہ کو انتہائی پیار بھرا خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اپنے بچپن کی پیاری سی تصاویر اپنی اسٹار ماں کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’’ماں، تم مجھ سے جتنی محبت سمجھتی ہو، میں تم سے اس سے کہیں زیادہ محبت کرتا ہوں۔‘‘
https://www.instagram.com/p/DJfTNp2sxMb/
لیکن آذان کی محبت صرف اپنی ماں تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے اس موقع پر ان تمام ماؤں کو بھی یاد کیا جن کے بیٹے 3 روزہ جنگ کے دوران شہید ہوئے، خواہ وہ فوجی ہوں یا شہری۔ ان کا پیغام تھا: ’’آج میں ان بہادر ماؤں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے لاڈلوں کو وطن کی خاطر قربان کر دیا۔ آپ کی قربانیاں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔‘‘
یاد رہے کہ آذان سمیع خان اپنے والدین کے علیحدگی کے بعد اپنی والدہ کے ساتھ رہے ہیں۔ وہ ایک حساس بیٹے کی حیثیت سے دونوں والدین کے لیے احترام اور محبت رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کے والد مشہور گلوکار عدنان سمیع خان سے تعلقات اچھے ہیں، لیکن آذان کی سب سے بڑی ہیرو ان کی مضبوط اور خوددار والدہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔