سیہون: 20 سالہ معذور لڑکی سے 2 افراد کی جنسی زیادتی
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
سندھ کے ضلع سیہون میں کچی آبادی کی رہائشی 20 سالہ معزور لڑکی کو 2 افراد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
رپورٹ کے مطابق سندھ پولیس نے کہا کہ ملزمان متاثرہ لڑکی کو گھر کے دروازے سے ویل چیئر سمیت زبردستی اپنے گھر لے گئے جہاں انہوں نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔
پولیس نے لڑکی کے چچا امجد علی لاشاری کی مدعیت میں تھانہ سہون میں مقدمہ درج کرلیا، مقدمہ علی رضا چنیسر اور احمد علی ماچھی پر درج کیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ واقعہ سات روز قبل پیش آیا، زیادتی میں ملوث ایک نامزد ملزم گرفتارکرلیا گیا جب کہ دوسرے کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق لڑکی کو طبی معائنے کے لیےعبداللہ شاہ اسپتال سہون منتقل کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔
شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔