افغان ‘چائینکی گوشت’ کی مقبولیت کا راز کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پشاور میں افغانی پلاؤ سمیت دیگر افغانی کھانے تو مشہور ہیں لیکن ان روایتی کھانوں میں ایک نیا اضافہ ہوا ہے، جو کم وقت میں ہی کھانے کے شوقین افراد میں مقبول ہو رہا ہے: افغانی چائینکی گوشت، یہ چائینک نما چھوٹے سے برتن میں تیار کیا جاتا ہے۔
پشاور کے ایک ریسٹورنٹ نے چائینکی گوشت متعارف کرایا ہے، جو مالک کے مطابق افغانی طرز پر تیار کیا جاتا ہے۔ گوشت کو نمک، کالی مرچ، ادرک، لہسن اور تھوڑے سے پانی کے ساتھ ایک بند برتن میں آہستہ آہستہ پکایا جاتا ہے۔ اس طریقے سے پکانے سے گوشت اپنی اصلی خوشبو اور قدرتی ذائقہ کو برقرار رکھتا ہے، جو اسے عام گوشت کے دیگر کھانوں سے منفرد بناتا ہے۔
ہوٹل مالک کے مطابق چائینکی گوشت کے شوقین افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، ان کے مطابق اس طریقے سے گوشت کو کوئلوں پر آہستہ آہستہ پکایا جاتا ہے، پشاور کے لوگ مصالحے دار کھانوں کی نسبت سادہ اور روایتی کھانوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں اور افغانی چائینکی گوشت ہماری روایت اور ذائقے کا بہترین امتزاج ہے، مز ید جانیے سراج الدین کی اس ویڈیو رپورٹ میں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چائینکی گوشت جاتا ہے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔