ٹریک دھماکے سے اڑانے کے بعد جعفر ایکسپریس سروس چند روز کیلئے منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
—فائل فوٹو
ریلوے ٹریک پر دھماکے سے متاثر ہونے کے بعد جعفر ایکسپریس کی پیر کو کوئٹہ سے پشاور کے لیے روانگی منسوخ کر دی گئی۔
کوئٹہ سے ریلوے حکام کے مطابق آج پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کی روانگی بھی منسوخ کی گئی ہے۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ 13 اگست کو پشاور سے کوئٹہ کے لیے اور 14 اگست کو کوئٹہ سے پشاور کے لیے جعفر ایکسپریس کی روانگی بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔
دریں اثنا ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس کی کوئٹہ سے پشاور اور پشاور سے کوئٹہ روانگی سیکیورٹی وجوہات کے باعث منسوخ کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ آج صبح سپیزنڈ کے قریب مستونگ کے قرہب ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا، جس میں جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔
ریلوے حکام کے مطابق اس دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
علاوہ ازیں ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس کے مسافروں کو کوئٹہ لانے کے لیے 6 بسیں سپیزنڈ پہنچ گئیں۔
کوئٹہ سے ریلوے حکام کے مطابق بسوں کے ذریعے مسافروں کو سپیزنڈ سے کوئٹہ واپس لایا جا رہا ہے، سپیزنڈ کے قریب جعفر ایکسپریس کی متاثرہ بوگیاں اٹھانے کا کام جاری ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس کی 3 بوگیوں کو دوبارہ ٹریک پر چڑھا دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس کی کوئٹہ سے سے کوئٹہ کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔