اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن یعنی ایف اے او کے مطابق جولائی میں دنیا بھر میں غذائی اجناس کی قیمتیں 2 سال سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ سبزیوں کے تیل میں نمایاں اضافہ اور گوشت کی قیمتوں کا ریکارڈ سطح تک جانا، اناج، ڈیری اور چینی کی قیمتوں میں کمی پر بھاری پڑ گیا۔

ایف اے او فوڈ پرائس انڈیکس، جو عالمی سطح پر غذائی اجناس کی قیمتوں کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے، جولائی میں اوسطاً 130.

1 پوائنٹس رہا، جو جون کے مقابلے میں 1.6 فیصد زیادہ ہے۔ یہ فروری 2023 کے بعد سب سے زیادہ سطح ہے، اگرچہ یہ مارچ 2022 کی بلند ترین سطح سے 18.8 فیصد کم ہے، جب روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:

ایف اے او کے مطابق گوشت کی قیمتوں کا انڈیکس نئی تاریخ ساز بلندی 127.3 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جو جون کی سابقہ بلند ترین سطح سے 1.2 فیصد زیادہ ہے۔ بیف اور بھیڑ کے گوشت کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ چین اور امریکہ کی مضبوط درآمدی طلب بنی۔

امریکہ میں خشک سالی کے باعث مویشیوں کی تعداد میں کمی کے بعد بیف کی درآمدات بڑھ گئیں۔ چین میں بیف کی مقبولیت بڑھنے سے پچھلے سال ریکارڈ درآمدات ہوئیں، تاہم درآمد شدہ گوشت پر سرکاری تحقیقات نے مستقبل کی طلب کے حوالے سے غیر یقینی پیدا کر دی ہے۔

مزید پڑھیں:

دیگر گوشت کی منڈیوں میں، برائلرمرغی کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا کیونکہ بڑے خریداروں نے برازیل سے مرغی کی درآمد دوبارہ شروع کردی، جب برازیل نے ایویئن فلو کے پہلے فارم لیول پھیلاؤ کے بعد بیماری سے پاک حیثیت دوبارہ حاصل کر لی۔ اس کے برعکس، یورپی یونین میں طلب میں کمی اور سپلائی وافر ہونے کے باعث سور کے گوشت کی قیمتیں کم ہو گئیں۔

سبزیوں کے تیل کا انڈیکس جولائی میں 166.8 پوائنٹس پر پہنچ گیا، جو جون کے مقابلے میں 7.1 فیصد زیادہ اور گزشتہ 3 سال کی بلند ترین سطح ہے۔ پام، سویابین اور سورج مکھی کے تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی طلب میں اضافے اور سپلائی میں کمی کے باعث ہوا، اگرچہ یورپ میں نئی فصل آنے سے کینولا کے تیل کی قیمتیں کم ہوئیں۔

مزید پڑھیں:

اس کے برعکس، اناج کی قیمتوں کا عالمی اشاریہ تقریباً 5 سال کی کم ترین سطح پرآ گیا، کیونکہ شمالی نصف کرے میں گندم کی فصل آنے سے موسمی سپلائی کا دباؤ بڑھا۔ چاول کی قیمتوں میں بھی 1.8 فیصد کمی ہوئی، جو برآمدی سپلائی زیادہ ہونے اوردرآمدی طلب کم ہونے کی وجہ سے ممکن ہوئی۔

ڈیری مصنوعات کی قیمتوں میں اپریل 2024 کے بعد پہلی بار کمی آئی، مکھن اوردودھ کے پاؤڈر کی قیمتوں میں کمی نے پنیر کی قیمت میں اضافے کا اثرزائل کردیا۔

مزید پڑھیں:

چینی کی قیمتوں میں بھی مسلسل پانچویں مہینے کمی آئی، کیونکہ برازیل اور بھارت میں پیداوار بڑھنے کی توقع ہے، اگرچہ عالمی درآمدی طلب میں کچھ بحالی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

ایف اے او نے اس ماہ اناج کی سپلائی اور طلب کے تخمینے کو اپ ڈیٹ نہیں کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ برازیل بھارت درآمدی طلب سپلائی طلب فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کینولا مرغی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ برازیل بھارت سپلائی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کینولا گوشت کی قیمتوں کی قیمتوں میں کی قیمتوں کا ایف اے او کے تیل کے بعد

پڑھیں:

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں چوتھے روز بھی اضافہ کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگرا نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 24 جولائی کیلیے اضافہ کرتے ہوئے نوٹی فکیشن جاری کردیا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔

حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے