پاک بھارت براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستان اور بھارت کے درمیان حل طلب تنازعات کے حوالے سے دونوں ممالک کے براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان خیالات کے اظہار امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے برطانوی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران کیا۔
رپورٹ کے مطابق بات چیت کے دوران امریکی وزیرخارجہ اور ان کے برطانوی ہم منصب نے پاک بھارک جنگ بندی برقراررکھنے پر زور دیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مارکوروببو نے کہا کہ دونوں ممالک دوطرفہ رابطے اور مذاکرات جاری رکھیں۔
امریکی وزیرخارجہ نے بتایا کہ مارکو روبیو کا مزید کہنا تھا کہ امریکا پاک بھارت براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی وزیرخارجہ
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔