جوئے کا شبہ، طالبان نے شطرنج کھیلنے پر پابندی عائد کر دی،کھیل اسلامی قانون کے منافی قرار
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
جوئے کا شبہ، طالبان نے شطرنج کھیلنے پر پابندی عائد کر دی،کھیل اسلامی قانون کے منافی قرار WhatsAppFacebookTwitter 0 12 May, 2025 سب نیوز
کابل (سب نیوز)طالبان کی اسپورٹس اتھارٹی نے افغانستان شطرنج فیڈریشن کو باضابطہ طور پر معطل کرتے ہوئے شطرنج کو اسلامی قانون کے خلاف قرار دیدیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شطرنج پر پابندی کا اس وقت پتا چلا جب حال ہی میں قومی نے فیڈریشن کی سرگرمیوں کو بحال کرنے اور وظیفے بحال کرانے کے لیے رابطہ کیا تھا۔تاہم انھیں بتایا گیا کہ شطرنج پر مذہبی بنیادوں پر پابندی عائد کر دی گئی کیوں کہ اس کھیل میں جوئے کے استعمال ہونے کا شبہ ہے۔حکام نے وضاحت کی کہ وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی جانب سے شطرنج کو اسلامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔
جس کے بعد اس کھیل کے غیر شرعی ہونے کے بارے میں مکمل تسلی کی جائے گی تاہم اس وقت تک شطرنج پر پابندی رہے گی۔طالبان کے 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے سے پہلے افغانستان میں شطرنج فیڈریشن مردوں اور خواتین دونوں شعبوں میں فعال تھی اور ملک بھر میں باقاعدہ ٹورنامنٹس کا انعقاد کرتی تھی۔صدر یا قائم مقام سربراہ کی تقرری نہ ہونے کی وجہ سے شطرنج فیڈریشن کی سرگرمیاں نومبر2024 سے غیراعلانیہ طور پر معطل تھی۔
اس وقت یہ بھی اطلاع تھی کہ شطرنج فیڈریشن کے سابق صدر غلام علی ملک زادہ جنہیں ورلڈ چیس فیڈریشن تسلیم کرتی ہے، جرمنی منتقل ہوچکے ہیں۔ملک زادہ کی روانگی کے بعد طالبان کی اسپورٹس اتھارٹی نے عبوری طور پر عبید اللہ قریشی کو فیڈریشن کا سربراہ مقرر کیا تھا۔تاہم عبید اللہ قریشی کا اس وقت کے سربراہ فزیکل ٹریننگ نظر محمد مطمئن کے ساتھ تنازع پیدا ہوا جس کے بعد انھوں نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل مخلوط مارشل آرٹس جیسے دیگر کھیلوں پر بھی مذہبی بنیادوں پر پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔ایسی سرگرمیوں کے بارے میں فیصلہ سازی کا اختیار مکمل طور پر وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو دے دیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمعرکہ مرصوص، مسعود اظہر کے بھائی حافظ عبدالروف کے مارے جانے کا بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب معرکہ مرصوص، مسعود اظہر کے بھائی حافظ عبدالروف کے مارے جانے کا بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ رکوادی،تجارتی تعلقات کی بحالی کیلئے بھی مدد کو تیار ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ پاک فوج نے آپریشن بنیان مرصوص کی تکمیل کا اعلان کردیا قومی اسمبلی میں بھارت کیخلاف تاریخی فتح پر مسلح افواج کو خراج تحسین پیش کرنے کی قرارداد منظور پشاور زلمی کا پاکستانی پائلٹس کو خراجِ تحسین،5کروڑ روپے انعام کا اعلان پی ایس ایل 10کے بقیہ 8 میچز کب اور کہاں کھیلے جائیں گے، تفصیلات سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پر پابندی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔