UrduPoint:
2026-06-03@08:20:14 GMT

افغانستان میں طالبان نے شطرنج پر بھی پابندی لگا دی

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

افغانستان میں طالبان نے شطرنج پر بھی پابندی لگا دی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 12 مئی 2025ء) شطرنج طالبان کی طرف سے پابندی کا شکار ہونے والے کھیلوں میں سے تازہ ترین کھیل ہے جب کہ خواتین کو بنیادی طور پر کھیلوں میں حصہ لینے سے بالکل روک دیا گیا ہے۔

کابل میں طالبان حکومت کے اسپورٹس ڈائریکٹوریٹ کے ترجمان اطل مشوانی نے اتوار کے روز اس پابندی کی وجہ یہ بتائی کہ شطرنج جوئے کا ذریعہ بن سکتی ہے، جو حکومت کے متعارف کردہ اخلاقی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے۔

کرتے اور پگڑیاں: افغان طالب علموں کے لیے نیا لازمی یونیفارم

انہوں نے کہا کہ ’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘ قانون کے تحت یہ کھیل ممنوع ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس کھیل پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے جب تک کہ اس کی اسلامی قوانین کے ساتھ مطابقت کا تعین نہیں کر لیا جاتا۔

(جاری ہے)

اطل مشوانی نے کہا، ''شطرنج کے کھیل کے حوالے سے کچھ مذہبی تحفظات بھی ہیں۔

جب تک ان تحفظات کو دور نہیں کیا جاتا، افغانستان میں شطرنج کا کھیل معطل رہے گا۔‘‘

سزائے موت اسلامی قانون کا حصہ ہے، طالبان رہنما کا موقف

مشوانی کے مطابق افغانستان کی قومی شطرنج فیڈریشن نے تقریباً دو سال سے کوئی سرکاری تقریب یا مقابلہ منعقد نہیں کروائے اور قیادت کی سطح پر بھی کچھ مسائل درپیش تھے۔

طالبان نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے

کابل میں ایک کیفے کے مالک، جنہوں نے حالیہ برسوں میں شطرنج کے غیر رسمی مقابلوں کی میزبانی کی، کہا کہ وہ اس فیصلے کا احترام کریں گے لیکن اس سے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچے گا۔

طالبان کا افغانستان، بال تک فروخت نہیں کر سکتے

عزیز اللہ گلزادہ نامی اس افغان باشندے نے کہا، ''ان دنوں نوجوانوں کی سرگرمیاں زیادہ نہیں ہیں، بہت سے لوگ روزانہ یہاں آتے ہیں۔‘‘

’’وہ ایک کپ چائے پیتے اور اپنے دوستوں کو شطرنج کے کھیل کا چیلنج دیتے۔‘‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شطرنج دوسرے مسلم اکثریتی ممالک میں بھی کھیلی جاتی ہے۔

پچھلے سال طالبان حکام نے کھیلوں کے پیشہ وارانہ مقابلوں میں مکسڈ مارشل آرٹس پر یہ کہتے ہوئے پابندی لگا دی تھی کہ اس میں ''تشدد‘‘ ہے اور یہ ''اسلامی تعلیمات سے متصادم‘‘ ہے۔

افغانستان میں طالبان کی موجودہ حکومت 2021 میں اپنے اقتدار میں آنے کے بعد سے بتدریج سخت مذہبی قوانین اور ضوابط نافذ کرتی جا رہی ہے۔

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈکپ 2026 میں نافذ کیے جانے والے نئے قوانین کیا ہیں؟
  • طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی